
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گبریئسوس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ ایک نہایت خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
انہوں نے ایران کے نطنز میں واقع جوہری افزودگی کے مرکز اور اسرائیل کے شہر دیمونا میں ہونے والے حالیہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے اقدامات عوامی صحت اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے سنگین اور ناقابلِ تلافی خطرہ ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ عسکری تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ کسی بھی ممکنہ جوہری حادثے سے بچا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا: "امن ہی بہترین دوا ہے۔”
برطانوی خبر رساں ادارہ انڈیپنڈنٹ کے مطابق، ٹیڈروس ادھانوم گبریئسوس نے زور دے کر کہا کہ جوہری تنصیبات پر حملے انسانی صحت اور پورے خطے کے ماحول پر وسیع اور دیرپا اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لئے فوری اقدامات اور تمام فریقین کی جانب سے سنجیدگی ناگزیر ہے۔
اسی طرح مڈل ایسٹ نیوز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ کشیدگی کا تسلسل ایک بڑے ماحولیاتی بحران کو جنم دے سکتا ہے، اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سفارتی دباؤ میں اضافہ کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرے تاکہ کسی ممکنہ انسانی و ماحولیاتی المیے کو روکا جا سکے۔




