افغانستانخبریں

افغان لڑکیوں کی تعلیمی محرومی؛ پانچ سالہ صنفی امتیاز اور بنیادی حقوق پر پابندیاں

افغانستان میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے باوجود 12 سال سے زائد عمر کی لڑکیاں مسلسل پانچویں سال بھی اسکول جانے سے محروم ہیں۔

یہ صورتحال طالبان کی ان پالیسیوں کا حصہ ہے جنہیں خواتین مخالف قرار دیا جا رہا ہے، اور جن کے تحت خواتین کی بنیادی آزادیوں کو محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ عالمی برادری کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اس سلسلہ میں ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ پر توجہ دیں۔

نئے تعلیمی سال کے ساتھ ہی چھٹی جماعت سے اوپر کی طالبات کے اسکول تاحکمِ ثانی بند رکھے گئے ہیں۔

یہ پانچ سالہ پابندی طالبان کی جانب سے نافذ کردہ "صنفی امتیاز” کی واضح مثال ہے۔

اگرچہ بعض میڈیا ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش دکھائی دیتی ہیں، تاہم سوشل میڈیا صارفین نے #LetAfghanGirlsLearn ہیش ٹیگ کے ذریعہ اپنے احتجاج کی آواز بلند کی ہے۔

آسٹریلوی میڈیا ادارہ "کنورسیشن” نے اپنی ایک رپورٹ میں طالبان کے نئے تعزیری قانون کا ذکر کیا ہے، جو 119 دفعات اور 10 ابواب پر مشتمل ہے، اور اس میں خواتین کے خلاف سخت پالیسیوں کو قانونی شکل دی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان کے ابتدائی وعدے، جن میں خواتین کی سماجی اور تعلیمی میدان میں شمولیت کی بات کی گئی تھی، عملی طور پر پورے نہیں ہوئے، اور چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کے اسکول بدستور بند ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں میں افغان خواتین نے پرامن احتجاج، خفیہ کلاسوں اور آن لائن تعلیم کے ذریعے اپنے حقِ تعلیم کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس (اے ایف پی) کے مطابق، کابل میں وزارتِ تعلیم کے سامنے خواتین کے مظاہروں کو متعدد بار طاقت کے ذریعہ دبایا گیا۔

تعلیم کے علاوہ طالبان نے خواتین کو ملازمت، پارکوں، ریسٹورنٹس اور عوامی مقامات پر جانے سے بھی روک دیا ہے، اور ان کی سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کو سختی سے محدود کر دیا ہے۔

اس کے نتیجہ میں افغان معاشرے میں خواتین کا کردار نمایاں طور پر کم ہو گیا ہے اور ان کے لیے تعلیمی، معاشی اور سماجی مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ ریچارڈ بنٹ نے نوروز کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ طالبات اور طالباتِ جامعہ اب بھی تعلیم کے حق سے محروم ہیں، اور نئے تعلیمی سال کے آغاز سے بھی اس صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

تمام تر پابندیوں اور دباؤ کے باوجود افغان خواتین کی مزاحمت—چاہے وہ گھروں میں ہو یا سڑکوں پر—اور بیرونِ ملک ان کی کوششیں، اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ ایک منصفانہ اور پائیدار معاشرے کی تشکیل میں خواتین کا فعال کردار نہایت اہم ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button