دنیا

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث 28 ملین پروازوں میں خلل، یورپ کو شدید معاشی خطرات

مشرقِ وسطیٰ میں جاری بدامنی اور فوجی کشیدگی کے باعث خطے میں تقریباً 28 ملین پروازیں خطرے کی زد میں آ گئی ہیں، جس کے یورپ کی معیشت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ہمارے ساتھی رپورٹر نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے ملاحظہ کرتے ہیں۔

برطانوی کمپنی آکسفورڈ اکنامکس نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران لاکھوں پروازوں میں خلل ڈال سکتے ہیں اور اس کے وسیع معاشی اثرات، خاص طور پر یورپ پر، مرتب ہوں گے۔

اس کمپنی کے ماہرین کے مطابق ترکی، فرانس اور برطانیہ جیسے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

مڈل ایسٹ نیوز نے ایک تحقیقی نوٹ میں رپورٹ کیا ہے کہ اس سال مشرقِ وسطیٰ سے روانہ ہونے والی تقریباً 28 ملین پروازیں، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف اقدامات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث خطرے میں ہیں۔

الخلیج آن لائن کے مطابق، آکسفورڈ اکنامکس کے سینئر ماہرین ہیلن میک ڈرموٹ اور جیسی اسمتھ نے خبردار کیا ہے کہ پروازوں میں خلل عالمی معیشت اور سیاحت کے بہاؤ کو متاثر کر سکتا ہے۔

جیسی اسمتھ کے مطابق، خطرے میں موجود 60 فیصد سے زائد پروازیں یورپ سے متعلق ہیں، جبکہ وہ مغربی ممالک جو مشرقِ وسطیٰ کے مسافروں پر انحصار کرتے ہیں، زیادہ خطرات سے دوچار ہوں گے۔

کمپنی کی سیاحتی معیشت کی ٹیم نے پیش گوئی کی ہے کہ مسافر نسبتاً محفوظ اور قریبی مقامات کا رخ کریں گے، جس کے نتیجے میں اندرونِ ملک یا علاقائی سفر میں اضافہ ہوگا۔

جرمن ایئرلائن لوفتھانزا نے بھی اعلان کیا ہے کہ ایران سے متعلق جنگ خلیجی ایئرلائنز کی ایشیائی روٹس پر برتری کو کم کر سکتی ہے۔

اسی طرح کمپنی سیریوم کے مطابق، خطے میں طے شدہ 85 ہزار پروازوں میں سے 28 فروری سے اب تک 46 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں، جس سے آپریشنل اخراجات میں اضافہ اور عملے و طیاروں کی دوبارہ ترتیب ناگزیر ہو گئی ہے۔

ہوا بازی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی اسٹریٹیجک جغرافیائی حیثیت گزشتہ دہائیوں میں ایئرلائنز کی کامیابی کا اہم سبب رہی ہے، مگر موجودہ جنگ اس برتری کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

بین الاقوامی فضائی نقل و حمل ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال اس خطہ کے ہوائی اڈوں سے 227 ملین مسافروں نے سفر کیا تھا، تاہم موجودہ بحران اس رجحان کو شدید متاثر کر رہا ہے۔

صنعتی و تجزیاتی ذرائع کے مطابق بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث کچھ مشرقِ وسطیٰ کی ایئرلائنز نے اپنے روٹس مختصر کر دیے ہیں اور علاقائی پروازوں میں اضافہ کیا ہے۔

اس تبدیلی سے قریبی سیاحتی منڈیوں اور نسبتاً محفوظ مقامات جیسے شمالی افریقہ اور جنوبی یورپ کو فروغ مل سکتا ہے، اور بین الاقوامی سفر کے رجحانات میں نئی تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button