خبریں

آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر کیبلز اور فائبر آپٹک کو نقصان کا خدشہ، انٹرنیٹ اور عالمی مالی لین دین پر بڑے اثرات کا امکان

ماہرینِ سائبر سکیورٹی نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں زیرِ سمندر کیبلز کو کسی بھی قسم کا نقصان یا خلل عالمی انٹرنیٹ اور مالی لین دین کے نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔

اس حوالے سے ہمارے ساتھی رپورٹر کی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں موجود اہم ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔

زیرِ سمندر کیبلز اور فائبر آپٹک نیٹ ورکس، جو لاکھوں کلومیٹر تک پھیلے ہوئے ہیں، دنیا کے بڑے حصے کے انٹرنیٹ اور مالیاتی نیٹ ورکس کو آپس میں جوڑتے ہیں، اور ان میں کسی بھی خلل کے نتیجے میں وسیع معاشی اور سکیورٹی اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

ارم نیوز کے مطابق، مشرقی لندن یونیورسٹی کے سائبر سکیورٹی اور مصنوعی ذہانت کے مرکز کے سربراہ ڈاکٹر امیر النمرات نے بتایا کہ تقریباً 17 فیصد زیرِ سمندر کیبلز آبنائے ہرمز سے گزرتی ہیں، جو خلیجی ممالک کی انٹرنیٹ خدمات کو فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کیبلز مخصوص تکنیکی پروٹوکولز کے تحت کام کرتی ہیں، اس لئے کسی ایک کیبل کے کٹنے سے مکمل انٹرنیٹ بند نہیں ہوتا، لیکن ڈیٹا کی ترسیل میں شدید سستی، اور بینکاری خدمات، ڈیٹا سینٹرز اور علاقائی مالیاتی نظام میں رکاوٹیں پیدا ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹر امیر النمرات نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ انفراسٹرکچر علاقائی ممالک کی قومی سلامتی سے جڑا ہوا ہے اور ممکنہ جوابی کارروائیوں میں اسٹریٹجک ہدف بن سکتا ہے۔

اسی رپورٹ کے مطابق، ٹیکنالوجی پالیسی اور معیشت کے ماہر ڈاکٹر اشرف بنی محمد نے کہا کہ دنیا کے 95 فیصد سے زیادہ انٹرنیٹ ڈیٹا زیرِ سمندر کیبلز کے ذریعے منتقل ہوتا ہے، جبکہ دس کھرب ڈالر سے زائد مالی لین دین بھی انہی راستوں سے انجام پاتا ہے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز افریقہ، یورپ اور ایشیا کو جوڑنے والی نہایت اہم گزرگاہیں ہیں، اور ڈیٹا سینٹرز، تیل کمپنیاں اور دیگر حساس شعبے ان پر انحصار کرتے ہیں۔

ڈاکٹر اشرف بنی محمد نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کا خلل، چاہے وہ براہِ راست نقصان، ہیکنگ یا ڈیٹا میں مداخلت کی صورت میں ہو، مالیاتی شعبے، مصنوعی ذہانت اور حتیٰ کہ فوجی آپریشنز پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتا ہے۔

ارم نیوز کے مطابق، بین الاقوامی کمپنیاں جیسے مندوز، آزورا اور ای ڈبلیو ایس (ایمازون کے ڈیٹا سینٹرز) نے اس حساس علاقے کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے تاکہ ان اہم انفراسٹرکچر کو نقصان سے بچایا جا سکے، کیونکہ کیبلز میں کسی بھی خلل کے عالمی انٹرنیٹ، مالی لین دین اور ڈیجیٹل معیشت پر فوری اور نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button