شیعہ مرجعیت

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی: بعض روایات کے مطابق نوروز کے لیے نماز اور روزے جیسے مستحب اعمال بیان ہوئے ہیں

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے ایک علمی نشست میں نوروز اور فقہ و روایاتِ شیعہ میں اس کے مقام کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: یہ دن اگرچہ روایات میں اختلاف کے باوجود، نماز اور روزے جیسے مستحبات کا حامل ہے اور فقہاء نے قاعدۂ تسامح کی بنیاد پر ان پر عمل کو درست تسلیم کیا ہے۔

معظم لہ نے نوروز کے بارے میں بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مرحوم علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں نوروز کے حوالے سے ایک مفصل بحث بیان فرمائی ہے جو یقیناً محلِ اختلاف ہے، اور بعض نے یکم فروردین کو نوروز قرار دیا ہے لیکن بعض موارد میں دوسرے دنوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے روایات کے مطابق معصومین علیہم السلام کے نوروز کی طرف نگاہ کے بارے میں فرمایا: نوروز کے بارے میں دو طرح کی روایات پائی جاتی ہیں، ایک گروہ میں بعض ائمۂ اطہار علیہم السلام نے نوروز کو تقریر فرمایا ہے اور دوسری طرف نفی کی روایات بھی ہیں جو سب کی سب مراسیل ہیں۔

آیت اللہ العظمیٰ شیرازی نے مذکورہ روایات کے اعتبار کے بارے میں فرمایا: جو شخص قاعدۂ تسامح کو قبول نہیں کرتا اسے ان سب کو نہیں ماننا چاہیے، چاہے نوروز کو ثابت کرنے والی روایات ہوں یا نفی کرنے والی۔ لیکن جو قاعدۂ تسامح کو قبول کرتا ہے، اور مشہور فقہاء اسے قبول کرتے ہیں، تو اس قاعدے کی بنیاد پر بعض فقہاء جیسے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید محمد شیرازی نے روایات کے درمیان یوں تطبیق دی ہے کہ نفی سے مراد عید ہونے کی نفی ہے، لیکن بعض روایات کے مطابق اس دن کے لیے مستحب اعمال وارد ہوئے ہیں۔

معظم لہ نے قبل از اسلام کے بعض تہواروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اسلام سے پہلے مشرکین کے دو عید تھے، ایک جمعہ اور دوسرا عید الاضحیٰ یا قربان، جن دونوں کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ  نے تقریر فرمایا۔ اسی طرح زرتشتیوں کے بھی دو عید تھے، ایک نوروز اور دوسرا چھ ماہ بعد مہر ماہ میں مہرگان کے نام سے، جس میں نوروز کے حق میں مؤید روایات موجود ہیں اور قاعدۂ تسامح اسے شامل کرتا ہے، اس لیے قدیم و جدید مشہور فقہاء نے نوروز کے لیے مستحبات ذکر کیے ہیں اور ان پر عمل کیا ہے کیونکہ وہ قاعدۂ تسامح کو قبول کرتے تھے۔

انہوں نے نوروز کی نفی کرنے والی بعض روایات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: نوروز کی نفی کرنے والی روایات اس بات کی بیانگر ہیں کہ نوروز عید نہیں ہے، لیکن اس دن نماز اور روزے جیسے مستحب اعمال کی ادائیگی سے کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ زرتشتی اس دن کو عید مناتے تھے لیکن نفی کی روایات اس دن کو عید الفطر اور عید قربان کی طرح نہیں مانتیں، اس لیے یہ فقہِ شیعہ میں اعیاد میں شمار نہیں ہوا، لیکن بعض روایات میں اس کے لیے نماز اور روزے جیسے مستحب اعمال ذکر ہوئے ہیں، جیسا کہ سال کے بعض دوسرے دنوں کے لیے بھی مستحب اعمال بیان کیے گئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button