
ایران، اسرائیل اور امریکہ کی جنگ نے عالمی سطح پر شدید معاشی دباؤ پیدا کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل و گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 60 فیصد اضافہ جبکہ یورپ میں گیس کی قیمتیں دوگنی ہو چکی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر مندی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق جرمنی، اٹلی، برطانیہ اور جاپان مہنگی توانائی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، جہاں صنعتی پیداوار اور معیشت دباؤ کا شکار ہے۔ دوسری جانب خلیجی ممالک کو بھی خطرات لاحق ہیں، خصوصاً اگر آبنائے ہرمز بند ہوتی ہے تو تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔
ایشیائی معیشتوں میں بھارت، پاکستان اور سری لنکا کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی سست روی نمایاں ہے۔ ترکی کو جغرافیائی کشیدگی اور ممکنہ پناہ گزین بحران کا خدشہ ہے، جبکہ مصر کو سیاحت اور نہر سویز کی آمدنی میں کمی جیسے مسائل درپیش ہیں۔
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو دنیا بھر میں غذائی قلت کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، جس سے کروڑوں افراد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔




