اسلامی دنیاخبریں

عید الفطر 2026 — عالم تشیع میں عبادت، احساس، اور مزاحمت کا ہم آہنگ منظر

دنیا بھر میں آج عید الفطر کی خوشیاں اپنے عروج پر ہیں، مگر شیعہ دنیا—مشرقِ وسطیٰ سے لے کر برصغیر تک—اس دن کو ایک منفرد روحانی گہرائی، جذباتی وابستگی اور فکری شعور کے ساتھ منا رہی ہے۔ یہ عید محض ایک تہوار نہیں بلکہ ایک ایسا آئینہ بن کر سامنے آئی ہے جس میں خوشی کے ساتھ درد، عبادت کے ساتھ بیداری، اور جشن کے ساتھ ذمہ داری بھی جھلکتی ہے۔

قم مقدس میں مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ نے آج 21 مارچ 2026 کو عید الفطر کا اعلان کیا۔

اسی طرح نجف اشرف سے آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ نے بھی یہی اعلان فرمایا۔  اسی اعلان کے مطابق آج روضۂ امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کے وسیع صحن میں لاکھوں مؤمنین نمازِ عید ادا کریں گے۔ تکبیرات کی صدائیں فضا میں اس طرح گونجیں گی جیسے روحانیت کی ایک لہر ہر دل کو اپنے ساتھ بہا لے جا رہی ہے۔
کربلا میں روضۂ امام حسین علیہ السلام کے سائے تلے ادا ہونے والی نمازِ عید ایک ایسا منظر پیش کرے گی جس میں خوشی کے ساتھ ایک خاموش پیغام بھی شامل تھا—وفا، قربانی اور حق کی راہ پر ثابت قدمی کا پیغام۔

ایران میں نماز عید الفطر کے عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوں گے۔

مگر اس روحانی فضا کے ساتھ ساتھ کچھ تلخ حقیقتیں بھی نمایاں رہیں۔ لبنان اور یمن میں جنگ اور انسانی بحران کے باعث عید کی خوشیاں محدود دکھائی دیتی ہیں، جہاں آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر دعا ہو گی۔

اسی تسلسل میں برصغیر کے شیعہ مسلمان بھی عید الفطر کو عقیدت اور وقار کے ساتھ منا رہے ہیں۔

ہندوستان میں لکھنؤ، حیدرآباد، ممبئی اور کشمیر جیسے مراکز میں شیعہ علماء کے اعلان کے مطابق نمازِ عید ادا کی جا رہی ہے۔ مساجد، امام بارگاہوں اور عیدگاہوں میں مؤمنین کی بڑی تعداد جمع ہوں گی، جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ ملک و ملت کی سلامتی اور عالمی امن کے لئے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔ یہاں عید کی خوشیوں میں ایک تہذیبی نفاست اور روحانی سکون نمایاں نظر آئے گا۔

پاکستان میں بھی کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پاراچنار جیسے علاقوں میں شیعہ مسلمان نہایت عقیدت کے ساتھ نمازِ عید ادا کریں گے۔ علماء کے خطبات میں اتحادِ امت، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مظلوم اقوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر زور دیا گیا۔ سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باوجود عوام نے بھرپور شرکت کریں گے، جو ان کے عزم اور ایمان کی مضبوطی کا مظہر ہے۔

عالم تشیع میں عید کا ایک نمایاں پہلو زکاتِ فطرہ اور خیرات کا وسیع اہتمام رہا ہے، جہاں غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ یہ عمل عید کے حقیقی پیغام—اخوت، ہمدردی اور مساوات—کو عملی شکل دیتا ہے۔

یوں عید الفطر 2026 شیعہ دنیا میں ایک ہمہ جہت منظر پیش کرتی ہے—
نجف و کربلا کی روحانیت، قم و مشہد کی بیداری، بیروت و صنعاء کا صبر، اور لکھنؤ و کراچی کی عقیدت—سب ایک ہی لڑی میں پروئے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ عید ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ خوشی صرف جشن کا نام نہیں، بلکہ شعور، ہمدردی اور ذمہ داری کا بھی نام ہے۔
اور جب ایمان زندہ ہو تو حالات جیسے بھی ہوں، عید اپنی روح کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button