کینیڈا میں مسلمانوں کی جانب سے "نفرت سے مقابلہ” قانون پر اعتراض اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے خدشات
کینیڈا میں مسلمانوں کی جانب سے "نفرت سے مقابلہ” قانون پر اعتراض اور مذہبی آزادی کے تحفظ کے خدشات
کینیڈا میں متعدد اسلامی تنظیموں نے نئے "نفرت سے مقابلہ” قانون کے تیز رفتار نفاذ پر تشویش ظاہر کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ یہ قانون مذہبی آزادی اور اظہار رائے کے حق کو محدود کر سکتا ہے۔
یہ اعتراضات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اس قانون کے تفصیلی نکات پر سیاسی بحثیں جاری ہیں اور مسلمانوں میں تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
یاهو نیوز کے مطابق، 300 سے زائد اسلامی تنظیموں نے کینیڈا کے وزیر اعظم کو خط لکھ کر "C-9” بل کے نفاذ کی مخالفت کی ہے اور کہا کہ اس میں اب بھی "بنیادی خامیاں” موجود ہیں جو مذہبی آزادی اور اظہار رائے کو متاثر کر سکتی ہیں۔
سی ٹی وی نیوز کے مطابق، یہ قانون مذہبی مقامات کو دھمکیوں اور نفرت سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے، مگر ناقدین خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ نئے جرائم کی مبہم تعریف سے پرامن احتجاج یا مذہبی نقطہ نظر کا اظہار بھی جرم بن سکتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض مذہبی استثنیات کو بل سے حذف کرنے سے مسلمان کمیونٹی مزید غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے اور مذہبی آزادی خطرے میں آ رہی ہے۔
اس دوران، سیاسی مباحث جاری ہیں کہ کس طرح نفرت کے خلاف اقدامات اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ میں توازن قائم کیا جائے، اور سول حقوق کے کارکن اس قانون میں جامع نظرثانی کے مطالبہ کر رہے ہیں۔




