اکرم اماماوغلو کی گرفتاری کے ایک سال ہونے پر ترکی میں دموکراسی اور حکومتی دباؤ کے خلاف دسیوں ہزار افراد کا احتجاج
اکرم اماماوغلو کی گرفتاری کے ایک سال ہونے پر ترکی میں دموکراسی اور حکومتی دباؤ کے خلاف دسیوں ہزار افراد کا احتجاج
استنبول میں دسوں ہزار افراد نے اکرم اماماوغلو، معطل شدہ میئر، کی گرفتاری کے ایک سال پورے ہونے پر سرد و بارانی موسم میں میئر آفس کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
دویچه وله فارسی کے مطابق، مظاہرے میں مزدور یونینز کے ارکان اور جمہوریہ خلق پارٹی کے حامیوں کی بڑی تعداد شریک تھی اور ترکی صدر رجب طیب اردوان کے خلاف نعرے لگائے گئے۔
دیلیک کایا اماماوغلو نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اپنے شوہر کی گرفتاری کو عوام کے قانون اور جمہوریت پر اعتماد کے لئے سنگین دھچکہ قرار دیا
انہوں نے کہا کہ یہ احتجاج ذاتی نہیں بلکہ لاکھوں لوگوں کی آواز ہے جو ناانصافی کا سامنا کر رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ترکی کی حکومت آئندہ صدارتی انتخابات سے قبل اپنے سب سے بڑے حریف کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اکرم اماماوغلو کو 19 مارچ 2025 کو دہشت گردی کی حمایت اور بدعنوانی سمیت دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا، اور ان کے خلاف ایک بڑی عدالت میں مجرمانہ تنظیم کے قیام کا مقدمہ چل رہا ہے۔
مظاہرین اور اماماوغلو کے حامیوں نے انصاف کی بحالی، جمہوریت کے احترام اور شہری آزادیوں کی ضمانت پر زور دیا اور حکومتی دباؤ کے خاتمہ کا مطالبہ کیا۔




