خبریںدنیا

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی سے پیدا ہونے والا عالمی توانائی بحران اور معاشی بے یقینی؛ ایشیائی و افریقی ممالک کے عارضی حل

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کو متاثر کر دیا ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کا تیل گزرتا ہے۔ جس کے باعث عالمی توانائی منڈی میں شدید اضطراب پیدا ہو گیا ہے۔

تیل درآمد کرنے والے ممالک جیسے بھارت، چین، بنگلہ دیش، تھائی لینڈ، ویتنام، سری لنکا اور نیپال ایندھن کی قلت سے نمٹنے کے لئے عارضی اقدامات اختیار کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ حل پائیدار نہیں ہیں۔

بھارت نے وقتی طور پر امریکی پابندیوں میں نرمی کے بعد روس سے تیل کی خریداری دوبارہ شروع کی ہے، جبکہ چین بھی انہی کھیپوں کے حصول کے لئے مسابقت کر رہا ہے، مگر ماہرین اسے صرف قلیل مدتی حل قرار دیتے ہیں۔

سری لنکا میں حکومت نے پیٹرول کی تقسیم کے لئے QR کوڈ پر مبنی نظام نافذ کیا ہے، جس کے تحت ہر گاڑی کو ہفتہ وار صرف 15 لیٹر ایندھن ملتا ہے۔

بنگلہ دیش، پاکستان اور تھائی لینڈ نے بھی توانائی کی بچت کے لئے دفاتر میں دورکاری اور اوقاتِ کار میں کمی جیسے اقدامات کئے ہیں۔

جبکہ تھائی لینڈ میں ملازمین کو بجلی کے استعمال میں کمی کے لئے سادہ لباس پہننے اور لفٹ کے کم استعمال کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ بحران صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں بلکہ عراق، مصر، سوڈان، کینیا اور شمالی افریقہ کے دیگر ممالک بھی متبادل برآمدی راستوں اور ایندھن کے انتظام پر غور کر رہے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے ان خطوں میں معاشی و توانائی استحکام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ اشیاء کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ، یورپ اور چین جیسی بڑی طاقتیں بھی اس علاقائی بحران کے مقابلے میں کمزور دکھائی دیتی ہیں اور توانائی و سیکیورٹی کی صورتحال پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتیں۔

اس کے علاوہ اس بحران کے عالمی مالیاتی منڈیوں اور سپلائی چینز پر بھی براہِ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں بحری جہاز رانی کی کمپنیوں کو بیمہ کی بڑھتی ہوئی لاگت اور جہازوں کی تاخیر کا سامنا ہے، جبکہ کافی، گندم اور صنعتی دھاتوں کے برآمد کنندگان بھی قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ سے متاثر ہو رہے ہیں۔

اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بنیادی اشیاء کی قلت، مہنگائی میں اضافہ اور ایشیائی، افریقی اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں صارفین پر مزید دباؤ بڑھے گا، جس کے باعث کئی کاروباروں کو اپنی حکمتِ عملی پر فوری نظرثانی کرنا پڑے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button