
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافے کے بعد حالیہ دنوں میں پاکستان کی فضائیہ کی جانب سے افغانستان کے صوبوں کابل اور قندھار میں طالبان کے ٹھکانوں پر وسیع فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
اس واقعہ نے خطہ میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
یہ کشیدگی فروری کے آخر سے شروع ہوئی اور اب تک جاری ہے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے اور جوابی حملوں نے علاقائی امن و استحکام کے بارے میں سنگین خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق پاکستان کی فوج نے اس ہفتہ قندھار میں عسکری ٹھکانوں اور شدت پسندوں سے متعلق ڈھانچوں کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا ہے کہ کئی پناہ گاہیں اور عسکری ساز و سامان تباہ کر دیے گئے ہیں۔
دوسری جانب میڈیا ادارے آمو ٹی وی کے مطابق کابل کے بعض علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے باعث شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ادھر افغانستان کی طالبان انتظامیہ اور اقوام متحدہ کی بعض رپورٹوں میں شہری ہلاکتوں اور شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات دی گئی ہیں، جبکہ دونوں فریق ایک دوسرے پر کشیدگی بڑھانے اور جھڑپوں کو جاری رکھنے کا الزام لگا رہے ہیں۔




