ظلم کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے: مولانا سید روح ظفر رضوی

ممبئی۔ خوجہ شیعہ اثناء عشری جامع مسجد پالا گلی میں جمعۃ الوداع کی نماز امام جمعہ و جماعت حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا سید روح ظفر رضوی کی اقتدا میں ادا کی گئی۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے نمازیوں کو تقوے الہی کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: تقوی اختیار کرنا ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ خود قرآن کریم نے اعلان کر دیا ہے کہ روزہ تم پر اس لئے فرض ہے تاکہ تم باتقوی بن جاؤ۔
امام جمعہ ممبئی نے مزید فرمایا: جتنا ہم ماہ رمضان میں اپنے کھانے پینے کا انتظام کرتے ہیں افسوس کہ اتنا ہم اپنی روح کا انتظام نہیں کرتے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے مومنین کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر روزہ رکھنے کے بعد بھی ہمارے اندر برائیاں پائی جاتی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے روزے کا حق ادا نہیں کیا ہے۔
امیر المومنین امام علی علیہ السلام کی وصیت "ظالم سے نفرت کرو اور مظلوم کا ساتھ دو۔” کو بیان کرتے ہوئے مولانا سید روح ظفر رضوی نے فرمایا: یہ امیر المومنین علیہ السلام کا پیغام ہے کہ انسان اپنی ذاتی، اجتماعی زندگی میں ظلم سے پرہیز کرے اور ظالم کی مخالفت کرے۔
مولانا سید روح ظفر رضوی نے امام حسین علیہ السلام کے کلام "ذلت مجھ سے دور ہے۔” کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: یہ عالمی حسینی پیغام ہے کہ انسان ذلت قبول نہ کرے، ایسے ہر کام سے پرہیز کرے جو انسان کی لئے باعث ذلت ہو۔
امام جمعہ ممبئی نے فرمایا: ظلم کسی بھی حال میں قابل قبول نہیں ہے، چھوٹا ظلم ہو یا بڑا ظلم ہو، لہذا ہمیں اپنی ذاتی زندگی میں بھی اس کی جانب توجہ رکھنی چاہیے۔




