
خاورمیانہ میں لڑائی کے بڑھنے اور ایران پر حملوں کی وجہ سے ایشیا کی انرجی مارکیٹ کو زبردست دھچکا لگا ہے۔
تیل اور گیس کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں، پیٹرول پمپوں اور گیس ڈسٹری بیوشن سینٹروں کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں اور ایشیائی حکومتوں نے بحران قابو میں کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اور ایندھن کی راشننگ شروع کر دی ہے۔ ہندوستان، بنگلہ دیش، پاکستان اور فلپائن ان ملکوں میں شامل ہیں جو اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔
ڈوئچے ویلے فارسی کی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل میں خلل پڑ گیا ہے اور ایشیائی ملکوں میں تیل و گیس کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ حکومتوں نے ایندھن کی راشننگ، قیمتوں کی حد مقرر کرنے اور ہنگامی انتظامات کا سہارا لیا ہے۔
بنگلہ دیش میں پیٹرول پمپوں کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں اور ملکی آئل کمپنی نے موٹرسائیکل سواروں کو صرف دو لیٹر ایندھن دینے کی پابندی لگا دی۔ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے بنگلہ دیش کو پانچ ہزار ٹن ڈیزل کی کھیپ بھیجی تاکہ کچھ حد تک کمی پوری ہو سکے۔
اکنامک ٹائمز کے مطابق ہندوستان میں حکومت نے "ضروری اشیاء ایکٹ” نافذ کر دیا ہے اور ریفائنریوں کو گھریلو ایل پی جی کی پیداوار بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ ممبئی اور بنگلور جیسے بڑے شہروں میں ہوٹل اور ریستوران یا تو بند ہو گئے یا کام کم کر دیا، اور شہریوں نے گھریلو گیس کے لیے لمبی قطاریں لگائیں۔
پاکستان میں وزیراعظم شہباز شریف نے ایندھن کی قیمتوں میں بھاری اضافے کا اعلان کر دیا ہے اور کھپت کم کرنے کے لیے اسکول بند اور دفاتر میں ورک فرام ہوم کا حکم دیا ہے۔ بحری افواج تجارتی بحری جہازوں کو اسکورٹ کر رہی ہیں تاکہ توانائی کی سپلائی بلاتعطل جاری رہے۔
فلپائن، جاپان، جنوبی کوریا اور انڈونیشیا جیسے ملکوں نے بھی کفایت شعاری کی پالیسیاں، سبسڈی میں اضافہ اور قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے اقدامات اپنائے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ بحران علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کے بغیر جاری رہا تو ایشیائی عوام اور صنعتوں پر معاشی اور سماجی دباؤ مزید بڑھتا جائے گا۔




