خبریںدنیا

مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگیوں سے سیاحت کو روزانہ 600 ملین ڈالر کا نقصان؛ اہم مراکز میں سفر متاثر اور قیمتوں میں اضافہ

مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگیوں نے خطہ کی سیاحتی صنعت پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں بین الاقوامی سفر میں کمی اور فضائی راستوں میں خلل پیدا ہوا ہے۔

اس صورتحال کے باعث سفر کی طلب کم ہوئی ہے اور خطہ کے کئی اہم سیاحتی مراکز میں اخراجات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی سفری و سیاحتی کونسل کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں جاری کشیدگی اور عدمِ استحکام کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے سفر اور سیاحت کے شعبہ کو روزانہ کم از کم 600 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

کونسل کا کہنا ہے کہ مسافروں کے اعتماد میں کمی اور فضائی رابطوں میں خلل اس خطہ میں سفر کی کمی کی اہم وجوہات ہیں۔

خبر رساں ایجنسی عرب نیوز کے مطابق، دبئی، ابوظبی، دوحہ اور بحرین جیسے اہم مراکز—جہاں عام طور پر روزانہ تقریباً 526000 مسافروں کی آمد و رفت ہوتی ہے—حالیہ ہفتوں میں پروازوں میں خلل اور ٹکٹوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سامنا کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سفری نیٹ ورک کو بھی متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب عالمی سفری و سیاحتی کونسل نے پیش گوئی کی تھی کہ 2026 میں بین الاقوامی سیاح مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 207 ارب ڈالر خرچ کریں گے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سکیورٹی صورتحال بہتر ہو اور حکومتوں و نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھایا جائے تو مسافروں کا اعتماد دوبارہ بحال ہو سکتا ہے اور خطے کی سیاحتی صنعت ایک بار پھر ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button