جنگی حالات میں بچوں کے لیے کھیل کی اہمیت
جنگی حالات میں بچوں کے لیے کھیل کی اہمیت
جنگ اور بدامنی کے حالات میں بچے سب سے زیادہ ذہنی دباؤ اور خوف کا شکار ہوتے ہیں۔ دھماکوں کی آوازیں، گھر والوں کی پریشانی اور غیر محفوظ ماحول بچوں میں بے چینی اور اضطراب کو بڑھا دیتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ایسنا کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مقصدی کھیل، خاص طور پر گڑیوں سے کھیلنا اور ڈراما بازی، بچوں کی ذہنی تکلیف کم کرنے میں نہایت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ جب بچہ گڑیوں کے ذریعے مختلف حالات کو دوبارہ ترتیب دیتا ہے، تو وہ اپنے چھپے ہوئے جذبات جیسے خوف اور گھبراہٹ کو بیان کر پاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، کھیل کے ذریعے بچوں کو یہ بھی سکھایا جا سکتا ہے کہ خطرے کے وقت کیا کریں، محفوظ جگہ کیسے پہنچیں، اور اپنا دل کیسے تھامے رکھیں۔ اس طرح کھیل محض تفریح نہیں، بلکہ حفاظتی تربیت کا ایک فطری ذریعہ بن جاتا ہے۔
تعلیمی رسائل میں شائع رپورٹوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ گروہی کھیل، مصوری، کہانی سنانا اور سادہ ڈراما بچوں میں تحفظ کا احساس پیدا کرتے ہیں اور انہیں مشکل حالات سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دیتے ہیں۔
تربیتی ماہرین زور دیتے ہیں کہ جنگی حالات میں بچوں کی ذہنی ضروریات کا خیال رکھنا اتنا ہی ضروری ہے جتنا ان کی جسمانی ضروریات پوری کرنا۔ کھیل کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا اور بچوں سے ان کی پریشانیوں پر کھل کر بات کرنا آنے والی نسل کی ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔




