افغانستان میں جنگ عالمی میڈیا کی توجہ سے اوجھل؛ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے سائے میں نظر انداز ہوتا ایک انسانی المیہ
افغانستان میں جنگ عالمی میڈیا کی توجہ سے اوجھل؛ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے سائے میں نظر انداز ہوتا ایک انسانی المیہ
جب عالمی میڈیا کی توجہ زیادہ تر مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں اور کشیدگیوں پر مرکوز ہے، اسی دوران افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں پر جاری فوجی جھڑپیں ایک سنگین انسانی اور معاشی بحران کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہیں۔
یہ ایسا بحران ہے جس کے عام شہریوں پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں، مگر اس کے باوجود عالمی سطح پر اسے زیادہ توجہ حاصل نہیں ہو رہی اور ہزاروں افغان خاندان شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
ہمارے ساتھی نے اس حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی ہے، آئیے اسے دیکھتے ہیں
دنیا کے بیشتر ذرائع ابلاغ کی نگاہیں جہاں مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں اور کشیدگیوں پر جمی ہوئی ہیں، وہیں پاکستان اور کابل کی حکمران اتھارٹی کے درمیان سرحدی جھڑپیں بتدریج افغانستان کے لئے ایک سنگین بحران میں تبدیل ہو رہی ہیں۔
حالیہ دنوں میں اس جنگ کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں فوجی نقصانات کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو بڑے انسانی اور معاشی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
مسلسل جوابی حملوں کے باعث سرحد کے قریب واقع کئی دیہات اور شہر غیر محفوظ علاقوں میں تبدیل ہو گئے ہیں۔
ان علاقوں میں رہنے والے خاندان، جو پہلے ہی معاشی مشکلات اور بدامنی کا سامنا کر رہے تھے، اب اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
ان میں سے بہت سے افراد انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں اور بنیادی سہولیات تک ان کی رسائی بھی محدود ہے۔
ریڈیو فرانس کی رپورٹ کے مطابق کابل حکومت کے حکام نے گزشتہ دنوں خطہ کے ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لئے ثالثی کا کردار ادا کریں اور جھڑپوں کو مزید پھیلنے سے روکیں۔
دوسری جانب پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے فوجی حملے سکیورٹی خطرات کے جواب میں کئے ہیں۔
اسی دوران اقوامِ متحدہ کی جانب سے جاری رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان جھڑپوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق فروری کے آخر سے مارچ کے آغاز تک کم از کم 56 غیر فوجی افغانستان میں ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 24 بچے اور 6 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 129 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں درجنوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔
انسانی جانوں کے نقصان کے ساتھ ساتھ بے گھر ہونے کا بحران بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق سرحدی جھڑپوں کے نتیجہ میں افغانستان میں تقریباً 115 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی ہزاروں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پڑے ہیں۔
دوسری جانب اس جنگ نے مقامی معیشت کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق سرحدی بندرگاہ طورخم میں ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں تجارتی بازار کے ایک حصے میں آگ لگ گئی جس سے تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
جنگ کے جاری رہنے کے باوجود اس بحران کے خاتمہ کے واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔ بہت سے مبصرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ جنگ جاری رہی تو اس کے انسانی اور معاشی اثرات افغانستان کے عوام کے لئے مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔




