ہندوستان میں رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ
ہندوستان میں رمضان کے مہینے میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ
حالیہ ہفتوں میں ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کے خلاف ہدفی تشدد کی لہر دیکھی گئی ہے۔ ان حملوں میں قتل، تشدد اور گروہی مار پیٹ شامل ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بہت سے مسلمان رمضان کے مقدس مہینے میں اپنی جان کے خوف اور گھبراہٹ میں مبتلا ہیں اور اس ماہ کا روحانی سکون خطرے میں پڑ گیا ہے۔
ہندوستان میں حالیہ ہفتوں میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ تشدد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ حقوق انسانی کے کارکنان اسے مذہبی اقلیتوں کے خلاف منظم نفرت پھیلانے کی مہم کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
بہار کے ضلع مدھوبنی میں روشن خاتون نامی مسلمان خاتون کو ہجوم نے حملہ کر کے مار ڈالا۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پہلے انہیں لوہے کی سلاخ اور لاٹھی سے بے تحاشہ پیٹا گیا، پھر انہیں زبردستی کوئی تکلیف دہ چیز پلائی گئی جس کی وجہ سے وہ چل بسیں۔
راجستھان میں عامر خان نامی اٹھائیس سالہ ٹرک ڈرائیور، جو دہلی کی طرف پھل لے جا رہا تھا، ایک خودسر بھیڑ نے اسے گھیر کر قتل کر دیا۔ اس کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ انہیں مسجد کے قریب نشانہ بنایا گیا۔
اتر پردیش کے کچھ علاقوں میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ گئی۔ شاہجہانپور میں ہولی کے موقع پر مسلمانوں پر رنگ پھینکے گئے جس کے بعد پتھراؤ اور مار پیٹ ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوئے۔ ہولی رنگوں کا ہندو تہوار ہے لیکن کچھ جگہوں پر اس کا استعمال مسلمانوں کے خلاف فساد بھڑکانے کے لیے کیا گیا۔
مکتوب نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس تشدد سے بچے بھی محفوظ نہیں رہے۔ لکھنو میں ایک تیرہ سالہ لڑکے کو روزے کی حالت میں گولی مار دی گئی۔ اسی طرح دربھنگہ میں پینسٹھ سالہ عبدالسلام کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ انہوں نے اسلام کی توہین روکنے کی کوشش کی۔
حقوق انسانی کے ماہرین، جن میں مائلز ٹو اسمائل تنظیم کے بانی آصف مجتبیٰ شامل ہیں، کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو اکثر خود ہی اپنی حفاظت کا انتظام کرنا پڑتا ہے کیونکہ عدالتی نظام نہ جوابدہ ہے اور نہ ہی مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ سول رائٹس پروٹیکشن کمیٹی کے قومی سکریٹری ندیم خان کا کہنا ہے کہ گروہی تشدد اور نفرت پر مبنی جرائم ہندوستان کی گہری سماجی خلیج کا حصہ ہیں اور قانون پر عمل نہ ہونے سے مسلمانوں میں خوف اور مایوسی بڑھتی جا رہی ہے۔
حقوق انسانی کے کارکنان اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ گروہی تشدد کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے، نفرت انگیز تقریروں پر لگام لگائی جائے اور رمضان کے مہینے میں مساجد کی سیکورٹی بڑھائی جائے تاکہ مسلمان اس مقدس مہینے کو سکون سے گزار سکیں اور اپنے انسانی حقوق کی حفاظت کر سکیں۔




