مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور پانی صاف کرنے والے مراکز پر حملوں کے ماحولیاتی خطرات؛ اقوامِ متحدہ کا انتباہ
مشرقِ وسطیٰ میں تیل اور پانی صاف کرنے والے مراکز پر حملوں کے ماحولیاتی خطرات؛ اقوامِ متحدہ کا انتباہ
مشرقِ وسطیٰ کے بعض علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جھڑپوں نے انسانی اور ماحولیاتی اثرات کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
تیل کی تنصیبات اور پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹس جیسے اہم بنیادی ڈھانچے پر حملے ماحولیات، آبی وسائل اور خطے کے عوام کی صحت پر وسیع اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ایسے مراکز کو نقصان پہنچنے سے نہ صرف خطے کی معیشت متاثر ہوگی بلکہ لاکھوں افراد کے لئے صاف پانی اور پاک فضا تک رسائی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اسی تناظر میں اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے دفتر نے ان حملوں کے ماحولیاتی نتائج کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
العربیہ نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ادارہ تیل کی تنصیبات اور پینے کے پانی سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی خبروں پر شدید تشویش رکھتا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اس طرح کے حملے خطے کے وسیع حصوں میں ہوا کے معیار اور پانی کے ذخائر کو متاثر کر سکتے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عام شہریوں کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور ایسے اہم بنیادی ڈھانچوں کو نقصان سے بچایا جائے جن میں طبی مراکز، اسکول اور پانی کی فراہمی کے نظام شامل ہیں۔




