
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور علاقائی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والے معاشی دباؤ کے ردِعمل میں مصر کی حکومت نے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اچانک اضافے کو روکنے کے لئے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
بازاروں میں قیمتوں کے تیز اتار چڑھاؤ اور زرِ مبادلہ کی شرح میں بے یقینی کے باعث قاہرہ کی حکومت نے مارکیٹ کے استحکام اور اشیاء کی قیمتوں کو قومی سلامتی کا مسئلہ قرار دیا ہے۔
خبر رساں ادارہ العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق مصری حکام نے عندیہ دیا ہے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے اور قیمتوں میں مصنوعی اضافہ کرنے والے عناصر کو فوجی عدالتوں میں بھیجا جا سکتا ہے، تاکہ بحرانی حالات میں منافع خور تاجروں کے استحصال کو روکا جا سکے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ دنوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مصر کے صدر نے بھی اس صورتحال پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ملک اس وقت ایک طرح کی "ہنگامی حالت کے قریب” صورتحال کا سامنا کر رہا ہے اور علاقائی کشیدگی کو قیمتوں میں بے جا اضافے کا بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جاری تنازعات، درآمدی اخراجات، انشورنس اور نقل و حمل کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے دوا سازی کی صنعت، پیداواری شعبے اور تعمیراتی مواد کی قیمتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل کے باعث پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب مصری حکومت کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس اسٹریٹجک ذخائر موجود ہیں اور “قیمتوں کے ریڈار” جیسے نگرانی کے نظام کے ذریعہ مارکیٹ پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے اور کسی بڑے معاشی بحران سے بچا جا سکے۔




