دنیا

خطہ میں کشیدگی کے اثرات؛ عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے نظام پر بڑھتا ہوا دباؤ

خطہ میں جاری کشیدگی نے عالمی معیشت اور توانائی و زرعی خام مال کی اہم ترسیلی راہداریوں کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث عالمی منڈیاں غیر معمولی دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔

آبنائے ہرمز میں سیکڑوں بحری جہازوں کی آمد و رفت رک جانے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، کیونکہ دنیا کی تقریباً 30 فیصد توانائی کی برآمدات اور کیمیائی کھادوں کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

خبر رساں ادارہ  یورو نیوز فارسی کے مطابق خلیج فارس کے ساحلی ممالک — جن میں سعودی عرب، قطر، بحرین اور عمان شامل ہیں — کی نائٹروجن کھادوں کی برآمدات میں خلل نے عالمی غذائی رسد کے نظام کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

اسی طرح ایندیپینڈنٹ فارسی کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی منڈیوں میں توانائی اور گیس کی قیمتوں میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ یورپ اور ایشیا کی اسٹاک مارکیٹوں کے اشاریے بھی کمی کا شکار ہوئے ہیں۔

ماہرین اقتصادیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی عالمی منڈی متاثر ہوگی بلکہ دنیا کی غذائی سلامتی اور معاشی استحکام بھی شدید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ عالمی معیشت توانائی اور بنیادی اجناس کی اہم ترسیلی راہداریوں کے استحکام پر کس قدر منحصر ہے، اور ان راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ طویل المدتی اور وسیع اثرات کا سبب بن سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button