اسلامی دنیاخبریںلبنان

لبنان سے واپس آنے والے شامی شیعہ شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزی؛ سرحدی گزرگاہوں پر عارضی حراست اور طویل تفتیش

لبنان سے اپنے ملک شام واپس آنے والے بعض شامی شیعہ شہریوں کو سنگین مشکلات اور بڑھتی ہوئی تشویش کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان میں سے کچھ افراد کو سرحدی گزرگاہوں سے گزرتے وقت عارضی حراست میں لے کر کئی گھنٹوں تک تفتیش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حالیہ دنوں میں اس صورتحال نے ان خاندانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے جو لبنان سے شام کے مختلف علاقوں میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

شام کے انسانی حقوق کے نگران ادارے شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے مطابق درجنوں واپس آنے والوں کو سرحدی گزرگاہوں، جن میں "المصنع” اور "القصیر” شامل ہیں، پر روک لیا گیا اور انہیں آگے جانے سے پہلے تفتیش کے عمل سے گزارا گیا۔

بعض افراد کو کئی گھنٹوں تک روکے رکھنے کے بعد ہی گزرنے کی اجازت دی گئی۔

اسی طرح مقامی کارکنوں نے شامی آبزرویٹری کو اطلاع دی ہے کہ حمص کے نواحی علاقہ "الرستن” میں لبنان سے واپس آنے والے 15 نوجوانوں کو، جو شمالی حلب کے دو شیعہ قصبوں "نبل” اور "الزہراء” کے رہائشی ہیں، روک کر ان سے پوچھ گچھ کی گئی.

میڈیا ادارہ العربی الجدید نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ بعض واپس آنے والے افراد کو توہین آمیز رویّے حتیٰ کہ مارپیٹ کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔

ان حالات نے لبنان میں مقیم شامی شیعہ خاندانوں کے درمیان تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ بہت سے نوجوانوں نے فی الحال لبنان میں ہی رہنے کو ترجیح دی ہے جبکہ صرف خواتین اور بچے شام واپس جا رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کے ساتھ امتیازی سلوک سماجی کشیدگی میں اضافے اور خاندانوں کی تشویش کو مزید بڑھا سکتا ہے، جو شام کے معاشرتی امن اور یکجہتی کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button