
گزشتہ ہفتے علاقائی کشیدگی اور دبئی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد متعدد ایشیائی دولت مند افراد نے اپنے اثاثے متحدہ عرب امارات سے نسبتاً محفوظ مالیاتی مراکز کی طرف منتقل کرنا شروع کر دیے ہیں۔
یہ رجحان خلیج فارس کی سکیورٹی کے بارے میں سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی تشویش اور خطہ میں دولت کے مرکز کے طور پر دبئی کی ساکھ میں ممکنہ کمزوری کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق بعض سرمایہ کاروں نے اپنے بینک کھاتوں سے ایک لاکھ ڈالر سے زائد کی رقوم سنگاپور منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم ابتدائی تکنیکی مسائل کے باعث یہ منتقلی کچھ تاخیر کا شکار ہوئی۔
خبر رساں ادارہ عربی 21 نے مالیاتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ درجنوں ایشیائی تاجروں اور سرمایہ کاروں نے اپنے اثاثے سنگاپور اور ہانگ کانگ منتقل کرنے کے لئے اسی نوعیت کے اقدامات پر غور شروع کر دیا ہے یا وہ اس عمل میں مصروف ہیں۔
سنگاپور میں مقیم نجی اثاثوں کے وکیل ریان لین کے مطابق ان کے 6 سے 7 ایسے موکل ہیں جن میں سے ہر ایک کے پاس اوسطاً پچاس ملین ڈالر کے اثاثے موجود ہیں اور وہ فوری طور پر اپنی سرمایہ کاری سنگاپور منتقل کرنا چاہتے ہیں۔
خاندانی دولت کے انتظام سے وابستہ کمپنیوں کے مدیران نے خبر رساں ادارہ رائٹرز کو بتایا ہے کہ جنگ کے طویل ہونے کے خدشات کے باعث تقریباً 10 سے 20 فیملی آفسز نے اپنے اثاثے سنگاپور منتقل کرنے کے لئے رابطہ کیا ہے۔
کمپنی اینڈرسن گلوبل کی مدیرہ آئرس شاو کے مطابق اب دبئی کی ٹیکس مراعات سرمایہ کاروں کے لئے اولین ترجیح نہیں رہیں بلکہ سرمایہ کے تحفظ کو سب سے زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
سرمایہ کاری کے اس بدلتے ہوئے رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ علاقائی کشیدگی مالیاتی منڈیوں پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے اور سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی و معاشی استحکام کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا شکار ہیں۔




