
جنوبی ایران کے شہر میناب میں واقع لڑکیوں کے اسکول شجرہ طیبہ پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اس واقعہ کی فوری اور جامع تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اسے ممکنہ جنگی جرم قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کو جواب دہ ٹھہرانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس سانحہ میں زیادہ تر بچے تھے اور ہلاک ہونے والوں کی تعداد 165 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔
مڈل ایسٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق اس تنظیم کا کہنا ہے کہ حملے کے انداز سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس میں نہایت دقیق اور رہنمائی شدہ ہتھیار استعمال کئے گئے۔ دھماکہ ایک ایسے اسکول میں ہوا جس کا داخلی راستہ فوجی تنصیبات سے بالکل الگ تھا، اس لئے ابتدائی شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ حملہ ممکنہ طور پر امریکی فضائی کارروائی کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
اخبار الشروق کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر، ماہرین کے تجزیات، امریکی حکام کے بیانات اور حملہ آور افواج سے متعلق دستیاب عوامی معلومات بھی اس واقعہ میں ان ممالک کی افواج کے کردار کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیم کی محقق سوفیا جونز نے کہا کہ کسی بھی غیر قانونی حملے کے ذمہ دار افراد کا احتساب ہونا چاہیے اور جنگی جرائم کے ارتکاب میں ملوث ہر شخص کو قانونی کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس سانحے میں کم از کم 171طالبات کے علاوہ 14 اساتذہ اور عملے کے افراد بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔
جبکہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی تحقیق میں بھی اس حملے کی ذمہ داری امریکی افواج پر عائد کی گئی ہے۔




