
چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمان اویغور اقلیت کو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے پر سنگین پابندیوں کا سامنا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے کئی روزہ داروں کو صرف روزہ رکھنے کی وجہ سے پکڑ کر حراست میں لے لیا ہے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز (CAIR) نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین پر سفارتی دباؤ ڈالے تاکہ اویغور مسلمانوں کو رمضان میں روزہ رکھنے اور عبادت کرنے کی آزادی مل سکے۔
عالمی اویغور کانگریس کی رپورٹ کے مطابق سنکیانگ کے مختلف علاقوں بشمول ہوتان میں پولیس نے لوگوں کو محض روزہ رکھنے کی وجہ سے گرفتار کیا ہے اور بعض لوگ ابھی تک حراست میں ہیں۔
ریڈیو فری ایشیا (Radio Free Asia) کے مطابق یہ واقعات اس علاقے میں مسلمان اقلیتوں کی مذہبی آزادیوں پر بڑھتی ہوئی سختی کے تسلسل میں ہو رہے ہیں۔
اس سے پہلے بھی مختلف ذرائع نے اویغور مسلمانوں پر جماعت کی نماز میں شرکت پر پابندی، کاروباروں پر دباؤ اور رمضان و دیگر اسلامی مواقع پر مذہبی عبادات کو محدود کرنے کی کوششوں کی خبریں دی تھیں۔
انسانی حقوق کے کارکن اور بین الاقوامی ادارے ان اقدامات کو بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں اور عالمی برادری سے اویغور مسلمانوں کی صورتحال پر توجہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔




