عراق کے عتباتِ عالیات میں انیسویں شبِ رمضان کو امیرالمؤمنین علیہ السلام کی سوگواری

انیسویں شبِ ماہِ مبارک رمضان کے موقع پر عراق کے عتباتِ عالیات (روضہ ہائے مبارک) میں ہزاروں محبان اہلِ بیت علیہم السلام نے شبِ قدر کی احیائی عبادات اور امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی ضربت کی مناسبت سے مجالسِ عزا منعقد کیں۔
نجف اشرف، کوفہ اور دیگر مقدس مقامات پر روزہ داروں اور زائرین کی بڑی تعداد نے اس روحانی و غمگین شب میں شرکت کی۔
اس حوالے سے ہمارے نمائندے کی رپورٹ پر توجہ دیں۔
شبِ انیس رمضان، جسے لیلۃ الجرح بھی کہا جاتا ہے، عراق کے مقدس مقامات میں امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کی یاد میں خصوصی عبادات اور سوگواری کی محافل کے انعقاد کی گواہ بنی۔
عراق کے مختلف شہروں سے ہزاروں روزہ دار مسجدِ کوفہ اور نجف اشرف پہنچے اور مولائے متقیان کی شبِ ضربت کو عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔

نجف، کوفہ، کربلا، کاظمین اور سامرا کے مساجد اور روضہ ہائے مقدس کو سیاہ پرچموں اور بینروں سے آراستہ کیا گیا جس سے پورے ماحول پر غم و اندوہ کی فضا چھا گئی۔
عزاداروں نے نمازِ مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد دعائے جوشنِ کبیر کی تلاوت سحر کے قریب تک جاری رکھی اور مختصر سحری کے ساتھ آئندہ روز کے روزے کے لئے خود کو آمادہ کیا۔
نمازِ فجر کے قریب لمحوں میں عزاداروں کے درمیان ایک خاص روحانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور مسجدِ کوفہ میں بلند ہونے والی "اللہ اکبر” کی صدا شب زندہ داروں کی آنکھوں سے اشکِ غم جاری کر دیتی ہے۔
زائرین اور عزادار منظم صفوں میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی جائے ضربت کو دیکھتے اور محراب کے پاس کھڑے ہو کر اشکِ ماتم بہاتے ہیں۔
اس شب دینی خطباء نے اپنی تقاریر میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی عظیم شخصیت، آپ کی سیرت اور فضائل کو بیان کیا جس سے حاضرین کے دل سوگواری کی فضا سے مزید آشنا ہوئے۔ ذکرِ مصیبت کے بعد قرآن سر پر رکھنے کی خاص رسم بھی ادا کی گئی جو شبِ قدر کی عبادات اور عزاداری کے تسلسل کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
شہرِ مقدس کربلا میں بھی حرمِ مطہر حضرت سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے صحن و دیواریں سیاہ پوش کر دی گئیں اور محبانِ اہلِ بیت علیہم السلام نے شبِ قدر اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کی مجالس عزا میں شرکت کی۔

یہ روحانی و عزائی مجالس ہر سال انیسویں رمضان کی شب سے شروع ہو کر دیر تک جاری رہتی ہیں، جبکہ حرمِ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گنبد اور ایوان پر سیاہ پرچم نصب کر دیا جاتا ہے۔
انیسویں شبِ رمضان کی مجالس اور عزاداری درحقیقت عراق کے شیعوں کے دلوں میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی یاد میں شروع ہونے والے ایامِ عزا کا آغاز قرار پاتی ہے۔




