آٹھ مارچ عالمی یومِ خواتین

آٹھ مارچ جو پوری دنیا میں عالمی یومِ خواتین کے نام سے جانا جاتا ہے، مختلف معاشروں میں خواتین کے مقام اور حقوق پر دوبارہ توجہ دینے کا موقع ہے۔
یہ وہ موضوع ہے جس پر قرآنِ پاک اور اہلِ بیت علیہم السلام کی سیرت میں انسانی وقار، معاشی آزادی اور سماج میں خواتین کے رہنما کردار پر زور دیا گیا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں خواتین، مردوں کے ساتھ روحانی اور سماجی ترقی کے راستے پر ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں۔
قرآنِ پاک نے مختلف آیات میں مومن خواتین کو ہدایت کے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے اور سماج میں ان کے قابلِ قدر مقام پر زور دیا ہے۔
اسلامی تاریخ میں بھی ایسی نمایاں خواتین کی مثالیں ملتی ہیں جنہوں نے ایمان، قربانی اور استقامت میں اہم کردار ادا کیا۔
حضرت فاطمہ زہرا اور حضرت زینب سلام اللہ علیہما انہی شخصیات میں سے ہیں جو صبر، شجاعت اور ظلم کے سامنے ڈٹے رہنے کی وجہ سے سماج کے لیے ہمیشہ کا نمونہ بن گئیں۔
اسی طرح قرآنِ پاک سورہ تحریم کی آیت نمبر گیارہ اور سورہ نساء کی آیت نمبر بتیس میں خواتین کے ہدایت کے راستے میں کردار اور ان کی معاشی آزادی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ان تعلیمات کی بنیاد پر، اسلام میں خواتین انسانی وقار، مخصوص سماجی اور معاشی حقوق کی حامل ہیں اور مردوں کے ساتھ مل کر معاشرے کی روحانی اور سماجی ترقی کے راستے میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں۔




