بیگانوں سے تعلق کا الزام استعمار کا ایک پرانا حربہ

بیگانوں سے تعلق کا الزام ان تہمتوں میں سے ایک ہے جو ظالم لوگ ہمیشہ لگاتے رہے ہیں اور اسے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ یہی الزام پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ پر بھی لگایا گیا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے: "وَقَالَ الَّذِینَ کَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ افْتَرَاهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ فَقَدْ جَاءُوا ظُلْمًا وَزُورًا وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا”
کچھ مشرکین نے یہ تہمت لگائی کہ پیغمبر جو قرآن تلاوت کرتے ہیں وہ خدا کی طرف سے نہیں ہے بلکہ باہر کے کچھ لوگ، مثلاً یہودیوں اور عیسائیوں کے علماء، صبح و شام انہیں یہ باتیں سکھاتے اور املا کرواتے ہیں۔
اسی قسم کا الزام بعد میں معاویہ بن ابی سفیان نے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر اور پھر امام حسین علیہ السلام پر بھی لگایا۔ تاریخ میں اس طرح کے الزامات کو بارہا بطور ہتھیار استعمال کیا گیا ہے۔
انہی بزرگ ہستیوں میں سے ایک جن پر بیرونی طاقتوں سے تعلق کا الزام لگایا گیا، آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد حسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔ اس عظیم عالم کی زندگی اور ان کے تاریخی فتویٰ کا مطالعہ خصوصاً غیرت مند نوجوانوں کے لئے بہت مفید ہے، تاکہ وہ کفر کے ممالک کی طرف سے پھیلائے جانے والے گمراہ کن اور باطل پروپیگنڈے سے دھوکہ نہ کھائیں، یا کم از کم لاعلمی کی وجہ سے فریب کا شکار نہ ہوں۔
مرزا بزرگ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے تحریک تنباکو اور اپنے مشہور فتویٰ کے ذریعہ انگریز استعمار کے خلاف تاریخ کی ایک بے مثال جدوجہد کی۔ اس فتویٰ کے نتیجہ میں ایران میں موجود سینکڑوں ہزار انگریز مشیروں اور نمائندوں کو ملک سے نکال باہر کیا گیا۔
یہ فطری بات تھی کہ جب انگریزوں کے بے شمار مفادات اس فتویٰ کے باعث ختم ہوگئے تو انہوں نے خاموشی اختیار نہ کی بلکہ سازشوں اور الزامات کا سہارا لیا۔ انہوں نے کچھ لوگوں کو اُکسایا کہ یہ کہیں کہ آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا حسن شیرازی رحمۃ اللہ علیہ خود انگریز ہیں یا انگریزوں سے وابستہ ہیں۔
حالانکہ مرزا بزرگ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ نے چار لاکھ انگریزوں کو ایران سے نکال کر ملک کو ایک عظیم مصیبت سے بچایا۔ اگر ان کا یہ حکیمانہ اور جرأت مندانہ اقدام نہ ہوتا تو معلوم نہیں ایران کا کیا حال ہوتا۔
اسی طرح کا واقعہ آیۃ اللہ العظمیٰ مرزا محمد تقی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ بھی پیش آیا جب انہوں نے عراق کی آزادی کی جدوجہد میں قیادت کی اور ثورة العشرین (سن 1920ء کے عراقی انقلاب) میں اہم کردار ادا کیا۔ اس وقت بھی ان پر بیگانوں سے تعلق کے الزامات لگائے گئے۔
مرجعِ عالی قدر کے بیانات سے ماخوذ، جو مبلغین کے اجتماع میں 24 ذی الحجہ 1440ھ کو ارشاد فرمایا۔




