17 رمضان؛ جنگِ بدرِ کُبریٰ

ہجرت کے دوسرے سال قریشِ مکہ کا لشکر تقریباً 950 افراد پر مشتمل ہو کر مکہ سے نکلا اور اس کا مقصد رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ سے جنگ کرنا تھا۔ دوسری طرف رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ بھی 313 صحابہ کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے اور مکہ و مدینہ کے درمیان واقع بدر کے میدان میں پہنچے۔ بدر ایک وسیع میدان ہے جس کے مشرق اور مغرب میں دو پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔
رسولِ اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ نے حباب بن منذر انصاری کے مشورے سے بدر کے جنوبی حصے میں اپنا لشکرگاہ قائم کیا۔ جنگ کے آغاز میں عتبہ اپنے بھائی شیبہ اور بیٹے ولید کے ساتھ میدان میں آئے اور مبارزت طلب کی۔ ان کے مقابلے کے لئے پہلے انصار کے تین افراد گئے، مگر عتبہ نے کہا کہ تم ہمارے ہم مرتبہ نہیں ہو۔ اس پر انہوں نے کہا: اے محمد! ہمارے مقابلے کے لئے ہمارے قبیلے کے افراد بھیجو۔ چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے امیر المومنین امام علی علیہ السلام، حضرت حمزہ علیہ السلام اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ کو میدان میں بھیجا۔
امام علی علیہ السلام نے ولید پر ایسا کاری وار کیا کہ وہ ہلاک ہوگیا، پھر حضرت حمزہ علیہ السلام کی مدد کے لئے گئے اور شیبہ پر ایسی ضرب لگائی کہ اس کا سر دو ٹکڑے ہوگیا۔ اس کے بعد امیر المومنین امام علی علیہ السلام نے عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ کی مدد کی، جنہوں نے عتبہ کو زخمی کر دیا تھا۔ امیر المومنین علیہ السلام نے اسے بھی ہلاک کر دیا۔
یہ منظر دیکھ کر کفار کے دلوں میں خوف پیدا ہوگیا، مگر ابوجہل کے اکسانے پر انہوں نے بھرپور حملہ کردیا۔ اس موقع پر رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آسمانی فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لئے بھیج دیا۔ سخت جنگ ہوئی۔ شیرِ خدا امام علی مرتضیٰ علیہ السلام نے اس جنگ میں 36 دشمنوں کو قتل کیا۔ بالآخر کفار شکست کھا کر بھاگ گئے اور مسلمان ان کا تعاقب کرتے ہوئے 70 افراد کو قیدی بنا لائے۔ اس طرح جنگ مسلمانوں کے حق میں ختم ہوئی۔
ابوجہل جس کا اصل نام ہشام بن مغیرہ مخزومی تھا، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کا سخت دشمن تھا۔ اپنی بدطینتی اور جہالت کی وجہ سے اسے ابوجہل (جہالت کا باپ) کہا جاتا تھا۔ مکہ میں اس نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کو بہت اذیتیں دیں، یہاں تک کہ آپ کے سر پر اونٹ کی اوجھڑی اور راکھ ڈال دیتا اور آپ کے مبارک دانتوں پر پتھر بھی مارا۔
جنگِ بدر میں دو انصاری نوجوان بھائی معاذ اور معوذ نے اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا۔ انہوں نے اس پر حملہ کیا اور معاذ نے اس کی ٹانگ پر تلوار ماری جس سے وہ زمین پر گر پڑا۔ بعد میں عبداللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر قلم کر کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں پیش کیا۔
اس جنگ میں قریش کے 70 سردار قتل ہوئے جن میں سے 36 کو حضرت علیؑ نے قتل کیا اور باقی کو دیگر مسلمانوں نے۔ بہت سے زخمی ہوئے اور 70 افراد قیدی بنائے گئے۔ ان میں سے بعض کو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے حکم سے قتل کیا گیا اور باقی کو فدیہ لے کر آزاد کر دیا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے 14 افراد شہید ہوئے جن میں 6 مہاجرین اور 8 انصار شامل تھے۔
خطیب خوارزمی حنفی نے اپنی کتاب مناقب میں روایت کی ہے کہ جنگِ بدر کے دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ ایک فرشتہ رضوان آسمان سے ندا دے رہا ہے: “لا سیفَ إلّا ذوالفقار، ولا فتیٰ إلّا علی”
یعنی ذوالفقار کے سوا کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی بہادر نہیں۔
اسی طرح ابن مغازلی شافعی اپنی کتاب مناقب میں لکھتے ہیں کہ جنگِ احد میں بھی آسمان سے یہی ندا سنائی دی۔
یاد رہے کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ جن جنگوں میں خود تشریف لے جاتے تھے انہیں غزوہ کہا جاتا ہے اور جن جنگوں میں آپ خود شریک نہیں ہوتے تھے انہیں سریہ یا بعث کہا جاتا ہے۔ مؤرخ ابن اثیر کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے 27 غزوات اور 36 سریات تھے۔
ان غزوات میں سے چند یہ ہیں:
ابواء (ودّان)، بواط، ذوالعشیرہ، بدرِ کبریٰ، بنی سلیم، سویق، بحران، احد، ذی امر، حمراء الاسد، بنی نضیر، ذات الرقاع، بدرِ صغریٰ، دومۃ الجندل، بنی قریظہ، بنی لحیان، بنی قرد، حدیبیہ، عمرۃ القضاء، فتح مکہ، حنین، طائف، تبوک، خندق (احزاب) اور بنی مصطلق۔
ان میں سے 9 غزوات ایسے تھے جن میں باقاعدہ جنگ اور خونریزی ہوئی:
بدرِ کبریٰ، احد، خندق، بنی قریظہ، بنی مصطلق، خیبر، فتح مکہ، حنین اور طائف۔
جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے گئے تو امام علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا نائب مقرر فرمایا، اس لئے امیر المومنین امام علی علیہ السلام اس جنگ میں شریک نہیں ہوئے۔




