
بنگلہ دیش میں کچرے کے انتظام کا بحران ایک بڑے صحتی اور ماحولیاتی مسئلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
کچرے کا ڈھیر، صفائی کے ناقص نظام اور موثر ری سائیکلنگ کی غیر موجودگی نے شہریوں کی صحت اور ملک کے ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین نتائج پیدا کر دیے ہیں۔
اس سلسلے میں اپنے ساتھی کی رپورٹ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کراتے ہیں:
بنگلہ دیش میں کچرے کا بحران، خاص طور پر ڈھاکہ اور خُلنا جیسے بڑے شہروں میں، اب بھی صحتِ عامہ اور ماحول کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنا ہوا ہے۔
مقامی رپورٹوں سے پتا چلتا ہے کہ کچرے کی اٹھان اور انتظام میں کمزوری کی وجہ سے کافی مقدار میں کچرا گلیوں، کھلی زمینوں اور پانی کے راستوں پر جمع ہو جاتا ہے — جو نہ صرف شہر کی خوبصورتی کو بگاڑتا ہے بلکہ ہوا، پانی کی آلودگی اور بیماریوں کا سبب بھی بنتا ہے۔
شہروں کے کناروں پر بے ترتیب طریقے سے کچرا پھینکنا اور مخصوص جگہوں پر ڈھیر لگنا انہی مسائل میں سے ہے جن سے عوام روز جوجھتے ہیں۔
ڈیلی سن Daily Sun کی رپورٹ کے مطابق، خُلنا شہر میں چالیس فیصد سے زیادہ کچرا نالیوں اور سڑکوں پر پھینک دیا جاتا ہے۔
یہ سڑتا ہوا کچرا بدبو پھیلانے، زمین اور زیرِ زمین پانی کو آلودہ کرنے اور رہائشیوں میں دست، ٹائیفائیڈ اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔
اسی طرح بزنس اسٹینڈرڈ The Business Standard کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ بوگُرا میں روزانہ تین سو ٹن سے زیادہ کچرا پیدا ہوتا ہے، لیکن جدید کچرا انتظام کے نظام کی غیر موجودگی کی وجہ سے اس کا بڑا حصہ شہر کے آس پاس اور حتیٰ کہ دریاؤں میں بے دھڑک پھینک دیا جاتا ہے — جس کے پانی کے معیار اور حیاتیاتی تنوع پر دیرپا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں روزانہ ہزاروں ٹن کچرا نکلتا ہے اور اگرچہ شہر کی دونوں میونسپلٹیوں کے پاس کچرا اٹھانے کی سہولیات موجود ہیں، پھر بھی شہر میں اڑھائی سو سے زیادہ غیر سرکاری کچرے کے ڈھیر موجود ہیں جو آبی گزرگاہوں اور سڑکوں کے کنارے لوگوں کی صحت کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
گھریلو کچرے کے علاوہ، طبی فضلے کا ناقص انتظام بھی قابلِ توجہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے؛ کیونکہ اس فضلے کو غلط طریقے سے ٹھکانے لگانے سے متعدی بیماریاں پھیلنے اور ماحولیاتی آلودگی مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
ماحولیاتی اور صحتی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کچرے کے انتظام کے نظام کو مضبوط کیا جائے، موثر ری سائیکلنگ کا اہتمام کیا جائے اور عوامی شعور بیدار کیا جائے — تاکہ یہ بحران صحتِ عامہ اور غذائی تحفظ کے لیے اس سے بھی بڑے خطرے کی شکل نہ اختیار کر لے۔




