خبریںہندوستان

امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت پر روحانی و علمی محفل کا انعقاد

لکھنؤ۔ پیر بخارہ چوک میں انجینئر جناب سید مظہر عباس صاحب کی رہائش گاہ پر امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے یومِ ولادت باسعادت کے موقع پر ایک روحانی و دینی پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر مولانا مصطفی علی خان ادیب الہندی کی اقتدا میں نمازِ مغربین باجماعت ادا کی گئی۔

پروگرام میں امام جمعہ لکھنؤ مولانا سید کلب جواد نقوی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور امام حسن علیہ السلام کی نذر کی۔

تقریب کا آغاز دعائے فرج سے کیا گیا جس کے بعد دعائے جوشن کبیر پڑھی گئی۔ بعدہ محفل منعقد ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید علی ہاشم عابدی نے امام حسن علیہ السلام کی اس حدیث کو بیان کیا: “تین چیزیں انسان کو ہلاک کر دیتی ہیں: تکبر، لالچ اور حسد۔”

انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں پائی جانے والی اکثر جنگیں اور تنازعات انہی اخلاقی بیماریوں کا نتیجہ ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جس نے بھی تکبر، لالچ یا حسد کا راستہ اختیار کیا وہ آخرکار ہلاکت سے دوچار ہوا، چاہے وہ فرعون ہو، نمرود ہو یا شداد، حتیٰ کہ ماضی قریب کے کئی حکمران بھی اپنے غرور اور حسد کے سبب انجامِ بد سے دوچار ہوئے۔

مولانا سید علی ہاشم عابدی نے اپنے خطاب میں معاشرتی مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج سماج میں طلاق کی شرح میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کی احادیث پر غور و عمل میں مضمر ہے۔

انہوں نے امام حسن علیہ السلام کی ایک روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا: “سیاست یہ ہے کہ اللہ کے حق کو ادا کیا جائے اور زندہ و مردہ انسانوں کے حقوق ادا کئے جائیں۔”
انہوں نے کہا کہ اہل بیت علیہم السلام کی سیاست کا مفہوم یہی تھا اور اسی معنی میں بعض علماء نے کہا ہے: “ہمارا دین ہماری سیاست ہے اور ہماری سیاست ہمارا دین ہے۔”

بعد محفل فضائل دورۂ قرآن کا سلسلہ شروع ہوا اور شرکاء نے اجتماعی طور پر قرآن کریم کی تلاوت کی۔

پروگرام کے دوران شہداء کو خصوصی طور پر یاد کیا گیا اور تمام شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اسی طرح تلاوتِ قرآن کے ذریعہ جناب سید مظہر عباس صاحب کے مرحومین کو ایصالِ ثواب بھی کیا گیا۔

اس موقع پر متعدد علماء و افاضل اور معزز شخصیات نے شرکت کی جن میں مولانا سید محمد حسین رضوی، مولانا سید احسن نواب، مولانا شبیر علی، مولانا تنظیم حیدر، مولانا منتظر مہدی نجفی، مولانا شفیق اور مولانا تفسیر شامل تھے۔

پروگرام میں سینئر صحافی سید رضوان مصطفیٰ (تہلکہ ٹو ڈے)، امان عباس (روزنامہ صحافت)، شکوہ آزاد (روزنامہ صبح نامہ)، معروف شاعر جاوید برقی، مظاہر چھولسی، اطہر کاظمی، ڈاکٹر کامل رضوی (بی بی ڈی یونیورسٹی لکھنو)، سید اطہر صغیر تورج زیدی (سابق چیئرمین فخر الدین علی احمد کمیٹی یو پی گورنمنٹ) اور جناب انجم بنارسی سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button