تاریخ اسلام

15 رمضان؛ ولادت امام حسن مجتبی علیہ السلام

کریم اہل بیت امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادتِ باسعادت فقط ایک مقدس ہستی کی آمد نہیں تھی، یہ تاریخ کے سینے پر لکھی جانے والی ایک خاموش مگر عظیم تحریر تھی۔ 15 رمضان کی وہ مبارک ساعت گویا اعلان کر رہی تھی کہ اب نبوت کے گلستان میں پہلا گل کھل چکا ہے—ایسا گل جو تلوار سے نہیں، کردار سے انقلاب برپا کرے گا۔

مدینہ کی فضا اُس شب غیر معمولی تھی۔ بیتِ علی و فاطمہ علیہما السلام میں نور کی لہریں تھیں۔ جب یہ بشارت سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپؐ شوقِ محبت میں تشریف لائے، نومولود کو آغوش میں لیا، اذان و اقامت کہی—اور یوں دنیا کو پیغام دیا کہ یہ بچہ صرف ایک گھر کا چراغ نہیں، بلکہ امت کی رہنمائی کا مینار ہوگا۔
یہ وہ گھر تھا جس کے مکین امیر المومنین امام علی علیہ ٹتھے—عدل کے استعارہ، شجاعت کے پیکر؛ اور فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیہا تھیں—عصمت و طہارت کی تجسیم۔ اسی آنگن میں حسن علیہ السلام نے آنکھ کھولی۔ گویا عدل اور عصمت کے سنگم سے حلم و قیادت کا چشمہ پھوٹ پڑا۔
روایات گواہ ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "حسن اور حسین جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔”
یہ اعلان محض فضیلت کا بیان نہ تھا؛ یہ مستقبل کی قیادت کا اعلان تھا۔ یہ پیغام تھا کہ حق کی راہ میں کبھی تلوار اٹھانی ہوگی اور کبھی صبر کا پرچم بلند کرنا ہوگا—اور دونوں صورتوں میں مقصد ایک ہی ہوگا: دین کی بقا اور امت کی اصلاح۔
امام حسن علیہ السلام کی ولادت دراصل ایک فکری انقلاب کی تمہید تھی۔ آپؑ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں یہ ثابت کیا کہ انقلاب صرف میدانِ جنگ میں نہیں آتا، بلکہ دلوں کی تطہیر، فکر کی اصلاح اور خونریزی کو روکنے کے فیصلوں میں بھی آتا ہے۔ جب تاریخ ظلم کے طوفان میں گھری تھی، تب امام حسن علیہ السلام نے صلح کے ذریعہ دین کو فنا ہونے سے بچایا۔ یہ صلح کمزوری نہ تھی، یہ حکمت کا وہ وار تھا جس نے باطل کے چہرے سے نقاب کھینچ دی۔
آپؑ کی ولادت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ قیادت کا اصل جوہر حلم میں ہے۔ جو اپنے نفس پر غالب آ جائے، وہی امت کی باگ ڈور سنبھال سکتا ہے۔ امام حسن علیہ السلام کی مسکراہٹ میں رحمت نبوی تھی، ان کے صبر میں قوت علوی، اور ان کے کردار میں مہارت فاطمی تھی۔
سال 15 رمضان اہلِ دل کو یاد دلاتی ہے کہ ایک ایسا امام پیدا ہوا تھا جس نے ہمیں سکھایا کہ باطل کے مقابلے میں ہر قدم تلوار نہیں ہوتا—کبھی تدبر، کبھی حکمت، اور کبھی وقتی دستبرداری بھی دائمی فتح کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔
سلام ہو اُس مولودِ انقلاب پر جس نے صبر کو قیادت کا معیار بنایا۔
سلام ہو اُس کریمِ اہلِ بیتؑ پر جس کی ولادت نے امت کو فکر کی آزادی اور کردار کی عظمت کا درس دیا۔
سلام ہو امام حسنِ مجتبیٰ علیہ السلام پر! جنکی آمد رہتی دنیا تک حق کے متلاشیوں کے لئے چراغِ راہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button