جنوبی سوڈان میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے 26 اہلکار تاحال لاپتا

جنوبی سوڈان میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے 26 اہلکار تاحال لاپتا، طبی مراکز پر حملوں نے انسانی بحران کو شدید تر کر دیا
صوبہ جونگلی، جنوبی سوڈان میں طبی مراکز پر حملوں کے ایک ماہ بعد بھی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے 26 سے زائد اہلکار تاحال لاپتا ہیں اور ان سے رابطہ منقطع ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں مقامی باشندے بے گھر ہو گئے ہیں اور علاقے کی سکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
فرانس پریس کی رپورٹ اور ایم ایس ایف کے اعلامیہ کے مطابق، لانکیِن شہر کے ایک اسپتال کو سرکاری افواج کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پیری شہر کے ایک اور طبی مرکز پر "نامعلوم حملہ آوروں” نے حملہ کیا۔
ان مراکز کا عملہ اور بڑی تعداد میں مقامی شہری دیہی اور دور دراز علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے، جہاں جھڑپیں اور فضائی حملے اب بھی جاری ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ان دونوں مراکز کے 291 کارکنان میں سے 26 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جبکہ مواصلاتی نظام کی پابندیوں کے باعث ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔
ایم ایس ایف کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران امدادی ڈھانچے اور عملے پر اس نوعیت کے 10 حملے ہو چکے ہیں، جس کے باعث طبی ٹیموں اور مقامی آبادی پر شدید نفسیاتی اور انسانی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی عملہ کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بننا چاہیے اور انہیں فوری بین الاقوامی تحفظ اور حمایت کی ضرورت ہے۔
صوبہ جونگلی، جنوبی سوڈان میں طبی مراکز پر حملوں کے ایک ماہ بعد بھی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کے 26 سے زائد اہلکار تاحال لاپتا ہیں اور ان سے رابطہ منقطع ہے۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں مقامی باشندے بے گھر ہو گئے ہیں اور علاقے کی سکیورٹی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے۔
فرانس پریس کی رپورٹ اور ایم ایس ایف کے اعلامیہ کے مطابق، لانکیِن شہر کے ایک اسپتال کو سرکاری افواج کی بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پیری شہر کے ایک اور طبی مرکز پر "نامعلوم حملہ آوروں” نے حملہ کیا۔
ان مراکز کا عملہ اور بڑی تعداد میں مقامی شہری دیہی اور دور دراز علاقوں کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے، جہاں جھڑپیں اور فضائی حملے اب بھی جاری ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق ان دونوں مراکز کے 291 کارکنان میں سے 26 افراد اب بھی لاپتا ہیں، جبکہ مواصلاتی نظام کی پابندیوں کے باعث ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔
ایم ایس ایف کے مطابق گزشتہ 12 ماہ کے دوران امدادی ڈھانچے اور عملے پر اس نوعیت کے 10 حملے ہو چکے ہیں، جس کے باعث طبی ٹیموں اور مقامی آبادی پر شدید نفسیاتی اور انسانی دباؤ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ طبی عملہ کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بننا چاہیے اور انہیں فوری بین الاقوامی تحفظ اور حمایت کی ضرورت ہے۔




