خبریںشیعہ مرجعیت

آیۃ اللہ العظمیٰ سیستانی نے ایران پر جاری جارحیت کی شدید مخالفت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا

نجف۔ دفتر مرجع اعلیٰ دینی آیۃ اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی دام ظلہ نے ایران پر جاری جارحیت کی شدید مخالفت کی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے مندرجہ ذیل بیان جاری کیا۔

بسم اللہ الرحمن الرحيم

چند روز سے ایرانی سرزمین پر فوجی جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک بڑی تعداد میں شہری شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں اپنے وطن کا دفاع کرنے والے کئی بہادر سپاہی، درجنوں بچے اور دیگر بے گناہ شہری شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سرکاری و نجی املاک کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ متوقع طور پر جوابی فوجی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع ہو کر دیگر ممالک تک پھیل گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں اور تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ یہ مناظر اس خطہ میں ایک طویل عرصہ سے دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔

اقوامِ متحدہ کے رکن کسی ملک پر، سلامتی کونسل سے علیحدہ اور یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے، اس پر اپنی شرائط مسلط کرنے یا اس کے سیاسی نظام کو گرانے کے مقصد سے ہمہ گیر جنگ مسلط کرنا—بین الاقوامی معاہدات کی صریح خلاف ورزی کے علاوہ—نہایت خطرناک اقدام ہے، جو علاقائی اور عالمی سطح پر نہایت سنگین نتائج کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں طویل مدت تک بدامنی اور وسیع اضطرابات جنم لیں گے، جو خطہ کے عوام اور دیگر ممالک کے مفادات کے لئے تباہ کن ثابت ہوں گے۔

لہٰذا مرجعیتِ دینیہ عالیہ اس ظالمانہ جنگ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کی مذمت کریں اور مظلوم ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ نیز وہ ایک بار پھر تمام مؤثر بین الاقوامی فریقوں اور دنیا کے ممالک، خصوصاً اسلامی ممالک، سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فوری طور پر اس جنگ کو رکوانے کے لئے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے مطابق ایرانی جوہری معاملے کا منصفانہ اور پُرامن حل تلاش کریں۔
(14/شہرِ رمضان/1447ھ)
مطابق (4 مارچ 2026ء)
دفتر آية العظمى سید  علي حسيني سیستانی (دام ظلّه)
نجف اشرف/ عراق

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button