مختار ثقفی کربلا کے قاتلوں سے انتقام لینے والے تحریک کے سربراہ

مختار بن ابی عبید ثقفی، اسلامی تاریخ کی ایک بہت اہم شخصیت تھے جنہوں نے واقعہ کربلا اور امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک بڑی تحریک کی قیادت کی تاکہ کربلا کے شہیدوں کے خون کا بدلہ لے سکیں۔
مختار کی تحریک صرف ایک سیاسی یا فوجی قدم نہیں تھی، بلکہ یہ حق اور انصاف کے لیے ایک اسلامی تحریک تھی جو سن 68 ہجری میں ان کی شہادت تک جاری رہی۔
مختار بن ابی عبید ثقفی پہلی ہجری میں پیدا ہوئے، ان کے بچپن کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں۔
زیادہ تر روایات امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ان کی تحریک کے بارے میں ہیں۔
جب مسلم بن عقیل کوفہ تشریف لائے تو مختار نے ان کا ساتھ دیا اور عبیداللہ بن زیاد کی مخالفت کی وجہ سے کچھ عرصہ جیل میں رہے۔
تحریکِ توابین کے بعد انہوں نے جیل ہی سے اپنی تحریک کی بنیاد رکھی اور رہائی کے بعد شیعوں اور امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینے کے خواہشمند لوگوں کو منظم کیا۔
مختار کی دعوت بصرہ تک پہنچ گئی اور بہت سے شیعہ اور عراق میں رہنے والے ایرانی ان کے ساتھ آ ملے۔
آخرکار ابراہیم بن مالک اشتر اور تحریک کے دیگر سرداروں کی مدد سے 14 ربیع الاول سن 66 ہجری کی رات تحریک شروع ہوئی اور کوفہ کی حکومت مختار اور ان کے ساتھیوں کے ہاتھ آ گئی۔
ان کے ساتھی، جو زیادہ تر موالی اور اہلِ بیت علیہم السلام کے چاہنے والے تھے، عراق کے کچھ حصوں کو اپنے قابو میں لانے میں کامیاب ہو گئے۔
مختار نے واقعہ کربلا کے کئی ذمہ داروں کو جن میں شمر بن ذی الجوشن اور عبیداللہ بن زیاد شامل تھے، قتل کروایا اور ان کے سر مدینہ منورہ میں امام سجاد علیہ السلام کی خدمت میں بھیجے۔
اٹھارہ مہینے حکومت کرنے اور مختلف گروہوں سے لڑنے کے بعد مختار 14 رمضان سن 68 ہجری کو مصعب بن زبیر کے ہاتھوں شہید ہوئے اور ان کے تقریباً سات ہزار ساتھیوں کو بھی مصعب کے حکم پر قتل کر دیا گیا۔
مختار کا مزار تقریباً 230 سال تک نامعلوم رہا، یہاں تک کہ آیت اللہ العظمیٰ سید محمد مہدی بحرالعلوم نے اسے مسجد کوفہ میں دریافت کیا۔
اس کے بعد محسن الحاج عبود شلاش نے ان کے لیے نیا روضہ بنوایا اور اسے حضرت مسلم بن عقیل کے روضے کے رواق سے ملحق کر دیا۔
آج مختار کا مزار اسلامی تاریخ میں مزاحمت اور انصاف کی طلب کی ایک علامت بن چکا ہے۔



