خبریںدنیا

علاقائی کشیدگی کے باعث تیل و گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

حالیہ دنوں میں علاقائی تناؤ میں اضافہ نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید قیمتی جھٹکا دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیل اور گیس کی قیمتیں گزشتہ کئی ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

اہم برآمدی راستوں میں خلل اور آئل ٹینکروں کی آمد و رفت میں کمی نے توانائی کی فراہمی کے تحفظ سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

رایٹرز کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ فیوچر معاہدوں میں 8 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تجزیہ کاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہُرمُز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد میں کمی اس اضافہ کی ایک بڑی وجہ ہے، کیونکہ یہ آبنائے دنیا کے ایک بڑے حصے کے تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔

خبر رساں ایجنسی فرانس ‌نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ ہالینڈ اور برطانیہ کی منڈیوں میں گیس کی تھوک قیمتوں میں 25 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

رائٹرز کے مطابق دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس (LNG) کا ایک نمایاں حصہ آبنائے ہرمز کے راستے گزرتا ہے، اور کسی بھی طویل المدتی خلل سے متبادل وسائل کے لیے عالمی مقابلہ مزید تیز ہو سکتا ہے۔

ماہرین نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو توانائی کی بلند قیمتوں کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button