خبریںہندوستان

ہندوستان کے قانونی اور عدالتی اداروں میں مسلمانوں کی محدود نمائندگی؛ انصاف اور اقلیتوں کے حقوق کے لئے خطرہ

حالیہ جائزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے قانونی مراکز اور عدالتی اداروں میں مختلف عہدوں پر، جن میں سینئر جج، جیوری کے اراکین اور انتظامی منتظمین شامل ہیں، مسلمانوں کی موجودگی نہایت محدود ہے۔

ان عہدوں پر مسلمانوں کی کم نمائندگی نے انصاف اور اقلیتوں کے مساوی حقوق کے حوالے سے تشویش کو جنم دیا ہے۔

جیسے انکم ٹیکس اپیلیٹ ٹریبونل میں 474 اراکین میں سے صرف 19 مسلمان شامل ہیں، جبکہ آرمڈ فورسز ٹریبونل میں 18 اراکین میں سے صرف دو مسلمان خدمات انجام دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سنٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبونل میں 14 چیئرمین میں سے صرف ایک مسلمان ہے اور 217 انتظامی اراکین میں سے پانچ مسلمان شامل ہیں۔

اسی طرح دیگر عدالتوں اور ٹریبونلز، جن میں اپیلیٹ عدالتیں، نیشنل کمپنی لا ٹریبونل اور نیشنل گرین ٹریبونل شامل ہیں، میں بھی صورتحال تقریباً یہی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ قانونی اور عدالتی شعبوں میں مسلمانوں کی یہ کم نمائندگی، مسلم برادری میں حاشیہ نشینی اور ان کے حقوق کے نظر انداز کئے جانے کے احساس کو مضبوط کرتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اراکین کے انتخاب کے عمل میں اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستان کے قانونی اور عدالتی نظام میں انصاف اور مساوی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button