
یورپی سعودی تنظیم برائے انسانی حقوق کی ایک جامع رپورٹ کے مطابق 2015 سے 2025 کے دوران سعودی عرب میں کم از کم 44 خواتین کو سزائے موت دی گئی۔
ان اعداد و شمار میں تارکینِ وطن خواتین مزدور اور مختلف قومیتوں کی شہری خواتین شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال ملک کی عدالتوں میں شفافیت اور انصاف کی عملداری کے حوالے سے سنگین خدشات کو ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2024 میں سب سے زیادہ سزائے موت کے واقعات ریکارڈ کیے گئے، اور زیادہ تر مقدمات قتل، منشیات اور دیگر جرائم سے متعلق تھے۔
ان سزاؤں کا ایک بڑا حصہ تارکینِ وطن خواتین مزدوروں سے متعلق ہے، جو قانونی اور سماجی مسائل کا سامنا کرتی رہی ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کی عدم دستیابی اور مناسب معلومات کی فراہمی نہ ہونے کے باعث مقدمات کی کارروائی اور ملزمان کو فراہم کی جانے والی قانونی ضمانتوں کا درست جائزہ لینا ممکن نہیں ہو سکا۔
اس صورتحال نے سزائے موت کے نفاذ میں شفافیت اور انصاف کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔
رپورٹ میں غیر ملکی خواتین قیدیوں کے لیے قونصلر معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے اور سزائے موت سناتے وقت بین الاقوامی معیارات کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔




