خبریںیمن

یمن کے شیعہ مسلمانوں کے ماہِ رمضان کے پروگرام — نمازِ جمعہ، اجتماعی افطار اور ضرورتمندوں کی مدد

یمن کے شیعہ مسلمان ماہِ رمضان میں عبادت اور سماجی ہمدردی کو ساتھ لے کر چلتے ہیں — نماز، تلاوتِ قرآن اور افطاری کی تقسیم، سب ایک ساتھ۔

ہمارے ساتھی نے اپنی رپورٹ میں یہ روداد بیان کی ہے، آیئے مل کر دیکھتے ہیں:

یمن میں شیعہ حضرات ماہِ رمضان المبارک کے دوران طرح طرح کے دینی اور سماجی پروگرام منعقد کرتے ہیں۔

صنعاء، صعدہ اور شمالی و مرکزی علاقوں کی مساجد اور امام بارگاہیں نمازِ مغرب و عشاء، محافلِ تلاوتِ قرآن اور بچوں و نوجوانوں کے لیے خصوصی تعلیمی کلاسوں کی میزبانی کرتی ہیں۔

المسیرہ سمیت مقامی ذرائعِ ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق، شیعہ حضرات انفرادی عبادت کے ساتھ ساتھ اجتماعی دسترخوان بھی بچھاتے ہیں اور ضرورتمند گھرانوں کو راشن کے پیکٹ بھی پہنچاتے ہیں۔

یمن کے دینی اور ثقافتی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماہِ رمضان صبر کی مشق، ارادے کی پختگی اور سماجی یکجہتی کا بہترین موقع ہے۔

"الیمن الآن” کے بقول، ان سرگرمیوں میں شرکت نہ صرف افراد کی روحانی و دینی کیفیت کو سنوارتی ہے، بلکہ سماج میں پھیلی بے چینی اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں بھی کام آتی ہے۔

یمن کے شیعہ مسلمان خیراتی اور ثقافتی پروگراموں کے ذریعے ہمدردی، ایثار اور گناہوں سے پرہیز جیسی اسلامی اقدار کو عملی طور پر برتتے ہیں۔

محافلِ قرآن اور اخلاقی کلاسیں بچوں اور نوجوانوں کی دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کا ذریعہ بنتی ہیں۔

ذرائعِ ابلاغ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یمن میں رمضان کی سرگرمیاں انفرادی روحانیت کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ محلوں اور پسماندہ علاقوں میں باہمی تعاون کے جال اور سماجی تحفظ کا احساس بھی پیدا کرتی ہیں۔

افطاری اور غذائی امداد کی تقسیم کے ساتھ یمن کے شیعہ حضرات معاشرے کے مختلف طبقات میں سماجی برابری اور یگانگت کا جذبہ اُبھارتے ہیں۔

المسیرہ اور الیمن الآن جیسے مقامی ادارے ان اقدامات کو دین اور سماجی زندگی کے رشتے کی ایک روشن مثال قرار دیتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ ماہِ رمضان ذہنی سکون اور سماجی ہم آہنگی کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button