اسلامی دنیاایرانخبریںلبنان

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: لبنان پر اسرائیلی حملے، ایران سے تناؤ میں اضافہ، اقوامِ متحدہ کی وسیع تر جنگ کی تنبیہ

گزشتہ چند روز میں مشرقِ وسطیٰ کے حالات بہت نازک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے لبنان کے کئی علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں، ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، اور اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ لڑائی پورے خطّے میں پھیل سکتی ہے۔

پیر کی صبح اسرائیلی فوج نے بیروت کے جنوبی حصّوں پر — جو حزب اللہ کا گڑھ مانے جاتے ہیں — اور جنوبی لبنان کے کئی قصبوں جیسے الشعبیہ، الحلوسیہ، بدیاس اور خربت سلم پر، اور مشرقی وادیٔ بقاع میں بھی حملے کیے۔ لبنانی میڈیا کے مطابق جنوبی بیروت میں کئی لوگ زخمی ہوئے، مگر دو مارچ تک کوئی حتمی تعداد سامنے نہیں آئی تھی۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ حملے لبنانی سرزمین سے شمالی اسرائیل پر داغے گئے راکٹوں کے جواب میں کیے گئے، جہاں الرٹ سائرن بج اٹھے تھے۔ اسرائیلی حکام نے بتایا کہ فضائیہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہے، اور بعض اسرائیلی اخبارات نے یہ بھی لکھا کہ کچھ اہم شخصیات کو ختم کرنے کی بھی کوشش کی گئی۔

یہ سرحدی کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب اسرائیل اور ایران کے درمیان بھی براہِ راست تصادم ہو چکا ہے۔ اسرائیل نے ایران کے اندر کچھ ٹھکانوں پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے نہ صرف اسرائیل بلکہ خطّے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے قریب بھی حملے کیے بتائے جاتے ہیں۔ یہ دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ برسوں کا سب سے بڑا ٹکراؤ ہے۔

ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے اس صورتِ حال پر گہرا افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ سفارتی موقع ضائع کر دیا گیا۔ انہوں نے تمام فریقوں سے فوری طور پر مذاکرات کی میز پر واپس آنے کی اپیل کی، خاص طور پر ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے میں۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر تُرک نے بھی تحمّل سے کام لینے کی گزارش کی اور کہا کہ اگر لڑائی مزید بڑھی تو عام آبادی کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا اور پورا خطّہ عدم استحکام کی لپیٹ میں آ جائے گا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button