ایشیاءخبریں

جاپان میں اویغوروں کی جبری مشقت کے خلاف قانون سازی کی کوشش اور انسانی حقوق کی حمایت

جاپان کی پارلیمان کے اراکین اور اویغور کارکنان ٹوکیو میں ایک تقریب کے دوران جمع ہوئے تاکہ چین کی جانب سے سنکیانگ کے علاقہ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا جائزہ لیا جا سکے۔

اس اجتماع نے اویغوروں کے حقوق کی حمایت اور چین پر دباؤ بڑھانے کا موقع فراہم کیا۔

جاپانی حکام نے اعلان کیا کہ وہ امریکہ کے ’’اویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون‘‘ کی طرز پر ایک قانون منظور کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس کا مقصد درآمدات میں جبری مشقت کا مقابلہ کرنا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی ویب سائٹ کے مطابق، اس بین الاقوامی ادارہ نے ایک خط میں جاپان کی اویغور پارلیمانی کمیٹی پر زور دیا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کرنا کمپنیوں کی ذمہ داری بڑھانے اور چینی حکومت پر دباؤ ڈالنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔

اس تنظیم نے تجویز پیش کی کہ جاپان اُن علاقوں کو ہدف بنائے جہاں سرکاری سطح پر جبری مشقت کا خطرہ زیادہ ہے، اور کمپنیوں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی درآمد کردہ مصنوعات جبری مشقت کے بغیر تیار کی گئی ہیں۔

2016 سے چینی حکام نے دس لاکھ سے زائد اویغور اور دیگر ترک نژاد مسلمان اقلیتوں کو سیاسی تربیتی کیمپوں میں حراست میں رکھا ہے۔

یورپی یونین کی ہدایات کی طرز پر درآمدی پابندیاں جاپان کو اس قابل بنا سکتی ہیں کہ وہ اپنی اقتصادی پالیسیوں میں انسانی حقوق کو شامل کرے اور سپلائی چین کو جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات سے محفوظ رکھے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button