
برطانیہ میں مسلم برادری کا کہنا ہے کہ نسلی بنیادوں پر حملوں اور مساجد کی توڑ پھوڑ میں اضافہ کے باعث وہ خود کو “فراموش شدہ” محسوس کر رہی ہے، اور یہ بڑھتی ہوئی نفرت اور تشدد عبادت گاہوں اور مسلم بچوں کی سلامتی کے لئے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔
خبر رساں ادارہ رائٹرز کی شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ملک کے مختلف حصوں میں متعدد مساجد کو تخریب کاری اور نفرت انگیز حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان واقعات میں مسلم بچوں پر پتھراؤ اور مساجد کی دیواروں پر مسیحی علامات کی نقش و نگاری شامل ہے، جسے مسلم برادری اسلاموفوبیا میں اضافے کی علامت قرار دیتی ہے۔
اسی طرح مؤسسہ مسلمانان برطانیہ کی رپورٹ کے مطابق 26 جولائی سے اکتوبر کے اختتام تک برطانیہ بھر میں کم از کم 23 مقامات پر واقع 27 مساجد پر حملے کئے گئے۔ ان میں سے چالیس فیصد سے زائد واقعات میں برطانوی پرچموں اور نسلی نعرہ بازی کا استعمال کیا گیا۔
اس صورتحال کے پیش نظر شہری تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مساجد کو سکیورٹی معاونت تک رسائی آسان بنائی جائے اور نفرت انگیزی و اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر اور پیشگی اقدامات کو مضبوط کیا جائے، تاکہ مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔




