اسلامی دنیاتاریخ اسلام

10 رمضان المبارک؛ یوم وفات حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا

تاریخِ اسلام کے ابتدائی ابواب اگر کرب و ابتلا کی سیاہی سے لکھے گئے ہیں تو اُن کے حاشیوں پر ایثار و وفا کی سنہری روشنائی بھی جھلکتی ہے—اور اس روشنائی کا سب سے درخشاں عنوان حضرت خدیجۃ الکبریٰ سلام اللہ علیہا ہیں۔

جب مکہ کی گلیوں میں توحید کی صدا کو استہزا کا سامنا تھا، جب قریش کی مجلسوں میں نئی دعوت کو خطرہ قرار دیا جا رہا تھا، تب ایک باوقار اور بااثر خاتون نے نہ صرف ایمان قبول کیا بلکہ اپنی سماجی ساکھ کو بھی اس ایمان کے دفاع کے لئے سپر بنا دیا۔ یہ اقدام جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں بلکہ بصیرت افروز یقین کا اظہار تھا۔ اسی لئے مؤرخین نے آپ کو “اوّلُ المؤمنین” کے شرف سے یاد کیا۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عرب کی کامیاب تاجرات میں شمار ہوتی تھیں۔ مگر تاریخ کا اصل سوال یہ نہیں کہ ان کے پاس کتنا تھا؛ بلکہ یہ ہے کہ انہوں نے اسے کس کے لئے صرف کیا۔ شعبِ ابی طالب کا محاصرہ اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کا سرمایہ محض تجارت کا سرمایہ نہ تھا، بلکہ ایک نظریہ کی بقا کا ضامن تھا۔ بھوک، پیاس اور سماجی بائیکاٹ کے اس دور میں آپ کا مالی ایثار اسلامی تحریک کے لئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کی حیاتِ طیبہ میں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی رفاقت ایک ایسا باب ہے جس میں محبت اور مقصد یکجا نظر آتے ہیں۔ بعد از وفات بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ کا آپ کو یاد کرنا، آپ کی سہیلیوں کا اکرام کرنا اور آپ کے ذکر پر جذباتی ہو جانا اس امر کی علامت ہے کہ یہ رشتہ محض خانگی نہ تھا بلکہ دعوتی و روحانی شراکت داری کا استعارہ تھا۔ اسی نسبت سے آپ کی وفات کا سال “عامُ الحزن” کہلایا—یعنی غم کا سال۔

عصرِ حاضر میں جب مسلم معاشروں میں خواتین کے کردار پر بحث جاری ہے، حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی سیرت ایک متوازن ماڈل فراہم کرتی ہے: اقتصادی خودمختاری کے ساتھ عفت و وقار، سماجی اثرورسوخ کے ساتھ دینی استقامت، اور خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ ملی شعور۔ آپ نے ثابت کیا کہ عورت تاریخ کے حاشیہ پر نہیں، متن میں بھی اپنا مقام رکھتی ہے—بشرطیکہ اس کے کردار کو صحیح تناظر میں دیکھا جائے۔

آج جب ہم حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے یومِ وفات پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں تو یہ سوال بھی ہمارے سامنے ہونا چاہیے کہ کیا ہم نے ان کی سیرت کو محض تذکرے تک محدود کر دیا ہے؟ کیا ہمارے معاشی وسائل، ہماری سماجی توانائیاں اور ہماری فکری صلاحیتیں بھی کسی اعلیٰ مقصد کے لئے وقف ہیں؟

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان اگر شعوری ہو تو تاریخ ساز بنتا ہے، اور وفاداری اگر مقصد سے جڑی ہو تو تحریکوں کو دوام بخشتی ہے۔ ان کا کردار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بڑے انقلاب محض تقریروں سے نہیں، کرداروں سے برپا ہوتے ہیں۔

یومِ وفات کا یہ دن ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم عقیدت کے ساتھ ساتھ عمل کا عہد بھی کریں—تاکہ ہماری زندگیوں میں بھی ایثار، استقامت اور بصیرت کی وہی خوشبو رچ بس جائے جو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی حیاتِ طیبہ کا امتیاز تھی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button