توپ رمضان؛ اسلامی شہروں کے آسمان میں گونجتی صدا، صفوی دور سے آج تک ایک قدیم ایرانی ـ اسلامی روایت

توپ رمضان؛ ماہِ مبارک رمضان کی قدیم ترین علامتوں میں سے ایک ہے، جو صدیوں سے غروبِ آفتاب کے وقت اسلامی شہروں کے آسمانوں میں گونجتا رہا ہے اور اجتماعی و یادگار انداز میں افطار کے لمحے کا اعلان کرتا ہے۔
یہ روایت اسلامی سرزمینوں کی رمضانی ثقافت میں ایک گہری اور قدیم جڑ رکھتی ہے۔ ابتدا میں یہ ایک سادہ وسیلہ تھا جس کے ذریعہ لوگوں کو افطار اور سحر کے اوقات سے باخبر کیا جاتا تھا۔
درست گھڑیوں اور ذرائع ابلاغ کے عام ہونے سے پہلے یہ صوتی علامت روزہ داری کے اوقات میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتی تھی۔
رفتہ رفتہ یہ ایک عملی ذریعہ سے بڑھ کر ایک پائیدار رسم اور ثقافتی علامت بن گئی، جو زمانے کی تبدیلیوں کے باوجود آج بھی اپنی جگہ قائم رکھے ہوئے ہے۔
رمضان کے توپ کی ابتدا کے بارے میں تاریخی منابع میں مختلف روایات ملتی ہیں۔
ایک مشہور روایت پندرہویں صدی عیسوی میں قاہرہ سے منسوب ہے، جہاں غروبِ آفتاب کے وقت توپ کا ایک اتفاقی فائر ہوا۔
اس واقعہ کے بعد مملوک سلطان سیفالدین خشقدم نے افطار کے اعلان کے لئے روزانہ توپ چلانے کا حکم دیا۔
دوسری روایت انیسویں صدی اور مصر میں محمد علی پاشا کے دور سے متعلق ہے، جب مغرب کی اذان کے ساتھ توپ چلانے سے اس رسم کو افطار اور سحر کے اعلان کے طور پر باقاعدہ حیثیت ملی۔

تیسری روایت کے مطابق خدیو اسماعیل کے زمانے میں توپ کا غیر ارادی فائر ہونا اس بات کا سبب بنا کہ اس طریقہ کو نہ صرف افطار بلکہ امساک اور سرکاری اعیاد کے اعلان کے لئے بھی اختیار کیا جائے، اور توپ کو کوه مقطم کی بلندی پر نصب کیا گیا تاکہ اس کی آواز دور دراز علاقوں تک پہنچ سکے۔
ان روایات کے ساتھ ساتھ بعض تاریخی مصادر رمضان کے توپ کو شاه عباس اول کے صفوی دور سے بھی منسوب کرتے ہیں، جب ایران کے مختلف شہروں میں افطار اور سحر کے اعلان کے لئے توپ استعمال کی جاتی تھی۔
صفویان کے بعد عثمانی دور میں بھی اس روایت کو سرکاری حیثیت حاصل ہوئی اور 1827ء تک یہ مختلف قلعوں تک پھیل گئی۔
بتدریج رمضان کا توپ عرب ممالک، سرزمینِ شام، بغداد، خلیج فارس کے علاقے، یمن، سوڈان، شمالی و مغربی افریقہ بلکہ بلقان تک رائج ہو گیا۔
ایران میں بھی یہ روایت صفوی دارالحکومتوں سے لے کر مذہبی شہروں اور مقامی مراکز تک رائج رہی۔
توپیں عموماً قلعوں، بلندیوں یا شہر کے مرکزی میدانوں میں نصب کی جاتی تھیں تاکہ ان کی آواز تمام محلّوں تک پہنچ سکے۔
ایران میں رمضان کا توپ صرف روزے کے اختتام کی علامت نہیں تھا، بلکہ یہ سماجی ہم آہنگی کا ایک مشترکہ لمحہ پیدا کرتا تھا—ایسا لمحہ جب اس کی آواز سنتے ہی دسترخوان ایک ساتھ بچھ جاتے اور شہر کی فضا میں وحدت اور یگانگت کا احساس موجزن ہو جاتا۔
آج بھی ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے بعض شہروں میں یہ روایت علامتی یا روایتی انداز میں جاری ہے اور ایک زندہ رمضانی ورثے کے طور پر ماضی اور حال کے درمیان ایک مضبوط ربط قائم رکھے ہوئے ہے۔




