خدا اور معصومین علیہم السلام زمان کے پابند نہیں، بلکہ زمانہ اُن کے تابع ہے: آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی

مرجع عالی قدر آیۃ اللہ العظمیٰ سید صادق حسینی شیرازی دام ظلہ کا روزانہ علمی اجلاس بدھ، 7 رمضان المبارک 1447ھ کو منعقد ہوا۔
اس نشست میں حسبِ سابق معظم لہ نے مختلف فقہی مسائل کے بارے میں حاضرین کے سوالات کے جوابات مرحمت فرمائے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے "اوّل” اور "آخر” کے مفہوم کے حوالے سے فرمایا: ان دونوں کے دو معانی ہوتے ہیں۔ کبھی "اوّل” اس مقام پر استعمال ہوتا ہے جہاں اس کے بعد دوسرا بھی موجود ہو، اور کبھی ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جہاں اس اوّل کا کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔
معظم لہ نے اسی طرح "آخر” کے مفہوم کے بارے میں فرمایا: بعض اوقات یہ لفظ ایسے مقام کے لئے آتا ہے جس کے بعد کچھ نہ ہو، اور بعض اوقات اس سے مراد اضافی یا نسبتی آخری ہوتا ہے جس کے بعد بھی کوئی چیز موجود ہو سکتی ہے۔
ان دونوں مفاہیم کو بطورِ صفاتِ الٰہی بیان کرتے ہوئے معظم لہ نے فرمایا: خداوندِ متعال کے بارے میں ان صفات کا مطلب یہ ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے لئے نہ کوئی "قبل” ہے اور نہ "بعد”، اور نہ ہی وہ زمان کے اندر محدود ہے۔
آیۃ اللہ العظمیٰ شیرازی نے مزید تاکید فرمائی کہ حتیٰ معصومین علیہم السلام بھی زمانہ کے اندر مقید نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر جب "صاحب العصر و الزمان” کی تعبیر استعمال کی جاتی ہے تو اگرچہ ہم خود زمان کے تابع ہیں اور زمان کے اندر زندگی بسر کرتے ہیں، لیکن حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف امامِ زمان ہیں؛ یعنی زمانہ اُن کے تابع ہے اور اُن سے وابستہ ہے۔




