
سوڈان کی نیم فوجی فورسز (آر ایس ایف) نے شمالی دارفور کے شہر میستریہا میں ایک حملے کے دوران کم از کم 28 افراد کو ہلاک کر دیا، جن میں خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
اس حملے میں آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے گھروں کو نذرِ آتش کیا اور شہریوں کو قریبی دیہات کی جانب فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
یہ واقعہ شہر الفاشر پر قبضے کے چار ماہ بعد پیش آیا اور 2023 سے جاری خانہ جنگی کے تسلسل میں رونما ہوا، جس نے ملک کے انسانی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
عرب نیوز کی رپورٹ کے مطابق، حملے کے دوران مقامی اسپتال کو بھی نشانہ بنایا گیا، طبی عملے کو دھمکیاں دی گئیں اور بعض اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔
امدادی تنظیموں، جن میں اسلامک ریلیف برطانیہ بھی شامل ہے، نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دارفور اور کوردوفان کے دور افتادہ علاقوں تک خوراک، ادویات اور دیگر امدادی سامان پہنچایا جا سکے۔
اس جنگ کے نتیجے میں اب تک 14 ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ قحط اور وبائی امراض کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ بچوں اور بزرگوں میں شدید غذائی قلت میں مزید اضافہ ہوگا، اور جنگ کا تسلسل انسانی بحران کو مزید گہرا کر کے عوامی زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔




