خبریںصحت اور زندگی

موبائل اور ٹی وی کی لت بچپن میں ہی دماغ کو نقصان پہنچا سکتی ہے، نئی تحقیق میں انکشاف

ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو بچے دو سال کی عمر سے پہلے زیادہ وقت اسکرین کے سامنے گزارتے ہیں، ان کی دماغی نشوونما میں ایسی تبدیلیاں آ سکتی ہیں جو آگے چل کر جوانی میں فیصلہ کرنے کی رفتار کم ہونے اور بے چینی و گھبراہٹ کا سبب بن سکتی ہیں۔

یہ تحقیق سنگاپور میں کی گئی ہے۔ اس میں پتہ چلا کہ جن بچوں نے بچپن میں زیادہ اسکرین دیکھی، ان کے دماغ کے اُن حصوں میں زیادہ تیزی سے بڑھوتری ہوئی جو آنکھوں سے دیکھنے اور اپنے آپ پر قابو رکھنے کا کام کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شاید اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ڈیجیٹل اسکرین بچے کے دماغ کو بہت زیادہ محرک فراہم کرتی ہے۔

یہ طویل مدتی تحقیق سنگاپور کے ادارے A*STAR کے انسٹی ٹیوٹ فار ہیومن ڈیویلپمنٹ کی اسسٹنٹ پروفیسر ٹینی پنگ اور ان کی ٹیم نے نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے اشتراک سے کی۔ اس میں "Growing Up in Singapore Towards Healthy Outcomes” نامی منصوبے کا ڈیٹا استعمال کیا گیا۔ یہ تحقیق EClinicalMedicine نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

اس مطالعے میں 168 بچوں کو دس سال سے زیادہ عرصے تک دیکھا گیا اور ساڑھے چار، چھ اور ساڑھے سات سال کی عمر میں ان کے دماغ کے اسکین کیے گئے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ دماغ وقت کے ساتھ کس طرح بدلتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ تین اور چار سال کی عمر میں اسکرین دیکھنے کا یہ اثر نظر نہیں آیا، یعنی زندگی کے پہلے دو سال دماغی نشوونما کے لیے بہت نازک اور حساس ہوتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج سے والدین اور حکومتوں کو چھوٹے بچوں کی صحت مند پرورش کے لیے بہتر رہنما اصول بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Back to top button