عمان میں رمضان کی ہمدردی کے جلوے؛ چھوٹی مسجدوں سے لے کر گلی کوچوں تک عوامی افطار

ماہِ مبارک رمضان کی آمد کے ساتھ ہی عمان کے شہروں اور محلّوں میں سادہ مگر پُرسکون دسترخوان بچھنے لگتے ہیں۔
یہ عوامی روایت چھوٹی چھوٹی مسجدوں سے لے کر گلی کوچوں تک پھیلی ہوئی ہے اور اسلامی یکجہتی، مہمان نوازی اور روحانیت کا روشن مظاہرہ کرتی ہے۔
اس سلسلے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ کریں :
عمان میں ماہِ مبارک رمضان محض ایک انفرادی عبادت سے بڑھ کر ایک وسیع سماجی موقع بن چکا ہے، جس میں لوگ مل کر شہروں کی فضا کو روحانیت سے بھر دیتے ہیں۔
ان دنوں کئی محلّوں، عوامی راستوں اور مسجدوں کے آس پاس افطار دسترخوان بچھائے جاتے ہیں اور روزے دار بے تکلّفی اور سادگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ افطار کرتے ہیں۔ یہ مناظر ہمدردی اور پُرامن بقائے باہمی کی روح کو بالکل واضح کر دیتے ہیں۔
"عمان ایس ٹی” خبر رساں چینل میں شائع رپورٹوں کے مطابق، یہ روایت صرف بڑی مسجدوں تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹی محلّہ مسجدوں میں بھی عوام کی شرکت سے افطار دسترخوان سجائے جاتے ہیں۔
ان رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ سادگی، صفائی اور رضاکارانہ شرکت عمان کی اس رمضانی روایت کی سب سے اہم خصوصیات ہیں، اور ہر شخص اپنے آپ کو اس روحانی ضیافت کا حصّہ سمجھتا ہے۔
"عمان ایس ٹی” کی رپورٹوں میں ایک اور قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ملک کی بعض چھوٹی مسجدوں میں ایرانی قالینوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ بات عبادت کی جگہ کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ مسجد کے مقام کی تعظیم اور دینی آداب و روایات کی پاسداری کی علامت بھی ہے، اور بہت سے مبصّرین کے لیے یہ ایک دلنشین اور حوصلہ افزا منظر ہے۔
اسی طرح عمان میں سڑک کنارے بچھے افطار دسترخوان راہگیروں، مزدوروں اور کم آمدنی والے افراد کو بھی بغیر کسی رسم و رواج کے اس الٰہی ضیافت میں شریک ہونے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ رویّہ عمان کے لوگوں کی دینی ثقافت میں عبادت اور سماجی ذمّہ داری کے گہرے رشتے کو ظاہر کرتا ہے۔
مجموعی طور پر، عمان میں رمضان کا ماحول سماجی دین داری، سادگی اور یکجہتی کی ایک زندہ تصویر پیش کرتا ہے — ایک ایسا نمونہ جو روحانیت کو مسجد کی چہاردیواری سے نکال کر روزمرّہ زندگی کے بیچ لے آتا ہے۔




