سعودی عرب اور امارات کے درمیان بڑھتی ہوئی درار

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات، جو کبھی مضبوط علاقائی تعاون کی بنیاد پر قائم تھے، اب سیاسی، امنیتی اور اقتصادی اختلافات کا شکار ہو گئے ہیں۔
یہ وہ اختلافات ہیں جو خاورمیانہ کے آنے والے حالات کو بدل کر رکھ سکتے ہیں۔
اس بارے میں ہمارے ساتھی کی رپورٹ پر توجہ فرمائیں:
پچھلے ایک دہائی میں، سعودی عرب اور امارات علاقائی معاملات میں دو بڑے اتحادی کے طور پر جانے جاتے تھے اور یمن، بعض گروہوں کے مقابلے اور امنیتی ہم آہنگی جیسے معاملات میں ان کا آپس میں گہرا تعاون رہا۔
تاہم، نئے حالات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ اتحاد آہستہ آہستہ کمزور پڑ گیا ہے اور اس کی جگہ مقابلہ بازی اور بے اعتمادی نے لے لی ہے۔
یہ وہ رجحان ہے جس کی جڑیں دونوں ملکوں کے مفادات اور راہبردی ترجیحات کے فرق میں پیوست ہیں۔
نیویارکر میگزین میں شائع تجزیے کے مطابق، سعودی عرب اور امارات کے درمیان اختلاف کی سب سے بڑی وجہ یمن کا معاملہ ہے۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاض کو ابوظبی کی یمن میں بعض مقامی اور علیحدگی پسند گروہوں کی حمایت سے تشویش ہے اور وہ اس رویے کو پرانے مشترکہ مقاصد کے خلاف سمجھتا ہے۔
ساتھ ہی، امارات کی صہیونی حکومت سے قربت بھی سعودی نظر میں ایک اہم اختلافی نکتہ بن گئی ہے۔
نیویارکر کے حوالے سے تجزیہ نگار زور دے کر کہتے ہیں کہ امارات نے حالیہ برسوں میں علاقائی سیاست میں زیادہ آزاد کردار ادا کرنے اور اپنے اقتصادی و امنیتی اثر و رسوخ کو پھیلانے کی کوشش کی ہے۔
دوسری طرف، سعودی عرب اس رجحان کو عرب دنیا میں اپنی روایتی سیاسی اور اقتصادی قیادت کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
یہ مقابلہ اقتصادی میدان میں بھی سامنے آ گیا ہے، جہاں دونوں ملک غیر ملکی سرمایہ کاری کھینچنے، بندرگاہوں کی ترقی، نقل و حمل کی راہوں اور علاقائی مالی مرکز بننے کی دوڑ میں سنجیدہ حریف بن چکے ہیں۔
اس رپورٹ میں ایران کے بارے میں دونوں ملکوں کے مختلف رویے اور فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کا بھی ذکر ہے۔
ناظرین کے مطابق، یمن سے امارات کی فوجوں کی آہستہ آہستہ واپسی اور اس کا اپنے اقتصادی مفادات پر زیادہ توجہ دینا، پہلے سے موجود خلیج کو اور گہرا کر رہا ہے۔
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو یہ علاقائی طاقت کے توازن، عرب تعاون اور خاورمیانہ کے سیاسی استحکام پر دور رس اور فیصلہ کن اثرات چھوڑ سکتا ہے۔




