اسلامی بینکاری میں زبردست اضافہ، ۲۰۲۹ تک اثاثے ۹.۷ ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان

دنیا بھر میں اسلامی بینکاری کا شعبہ بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ سن ۲۰۲۹ تک اس شعبے کے کل اثاثے ۹.۷ ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائیں گے، جو کہ ۶۲ فیصد کا اضافہ ہوگا۔ یہ بات اسلامی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی جنرل کونسل کے سیکریٹری جنرل حمزہ بوزیر نے بتائی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۴ میں اسلامی مالیاتی صنعت کی مجموعی مالیت تقریباً ۵.۹۸ ٹریلین ڈالر تھی اور یہ ۱۴۰ ملکوں میں کام کر رہی ہے۔ صرف بینکاری اثاثے ۲۰۲۸ تک ۵.۵ ٹریلین سے بڑھ کر ۷.۵ ٹریلین ڈالر ہو جانے کی توقع ہے۔
خلیجی ممالک یعنی سعودی عرب، امارات اور دیگر جی سی سی ملکوں نے ۲۰۲۴ میں اسلامی بینکاری کی ترقی میں ۸۱ فیصد حصہ ڈالا، جس میں سعودی عرب سب سے آگے رہا۔ ایشیا میں ملیشیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش بھی اس میدان میں خاصے آگے ہیں۔
اس شعبے کے سامنے کچھ چیلنجز بھی ہیں جیسے کہ گاہکوں کو اپنے ساتھ جوڑے رکھنا، ڈیجیٹل دور کے ساتھ قدم ملانا، سائبر سیکیورٹی اور شریعت کے اصولوں پر کاربند رہنا۔
اسلامی بینکاری کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اصلی کاروبار اور نفع نقصان میں برابر کی شرکت پر چلتی ہے، اس لیے دنیا میں معاشی اتار چڑھاؤ کے باوجود یہ شعبہ مضبوط رہا ہے۔ یہ نظام غریب اور پسے ہوئے طبقے تک مالی سہولتیں پہنچانے میں بھی مددگار ہے۔
جنرل کونسل نے ۲۰۲۶ سے ۲۰۲۹ کے درمیان کئی اہم منصوبوں پر کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جن میں تحقیق، فنی مدد، اور فنٹیک کے ذریعے اسلامی مالیات کو مزید مستحکم بنانا شامل ہے۔




