
یونان نے جرمنی، نیدرلینڈز، آسٹریا اور ڈنمارک کے تعاون سے تیسرے ممالک، خصوصاً افریقہ میں ایسے مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جہاں ان مہاجرین کو رکھا جائے گا جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں۔
اس اقدام کا مقصد اُن افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جن کے پناہ حاصل کرنے کے امکانات کم ہیں، نیز یورپی پناہ گزین نظام پر دباؤ کم کرنا بھی اس کا ہدف ہے۔
خبر رساں ادارہ فرانس کے مطابق یونان کے وزیرِ مہاجرت تانوس پلوریس نے واضح کیا ہے کہ یہ مراکز اُن افراد کے لئے ہوں گے جنہیں ان کے آبائی ممالک واپس لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ تاہم ان مراکز کے آغاز کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔
ذرائع نے یاد دہانی کرائی ہے کہ یونان گزشتہ دہائیوں میں مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا سے آنے والے مہاجرین کے لئے یورپی یونین کا مرکزی دروازہ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں مہاجرین کی فوری واپسی سے متعلق یونان کی سخت پالیسیوں پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردِعمل سامنے آئے ہیں۔
انسانی حقوق کے ماہرین نے اس منصوبے کو ہجرت کے انتظام میں ایک متنازع مگر اہم قدم قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس کے قانونی اور انسانی پہلوؤں پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہوگی۔




